❮
❯
حدیث نمبر: 4590
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ ، ثَنَا عَبَّادُ بْنُ شَيْبَةَ الْحَبَطِيُّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ ، إِذْ رَأَيْنَاهُ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ ثَنَايَاهُ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : مَا أَضْحَكَكَ يَا رَسُولَ اللهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ؟ فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : رَجُلَانِ جَثَيَا مِنْ أُمَّتِي بَيْنَ يَدَيْ رَبِّ الْعِزَّةِ جَلَّ جَلَالُهُ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا : يَا رَبِّ ، خُذْ لِي مَظْلَمَتِي مِنْ أَخِي ، قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : أَعْطِ أَخَاكَ مَظْلَمَتَهُ ، قَالَ : يَا رَبِّ ، لَمْ يَبْقَ مِنْ حَسَنَاتِي شَيْءٌ ، قَالَ : رَبِّ ، فَلْيَحْمِلْ عَنِّي مِنْ أَوْزَارِي ، قَالَ : وَفَاضَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبُكَاءِ ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّ ذَلِكَ لَيَوْمٌ عَظِيمٌ ، يَحْتَاجُ النَّاسُ فِيهِ إِلَى أَنْ يُحْمَلَ عَنْهُمْ مِنْ أَوْزَارِهِمْ ، فَقَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لِلطَّالِبِ : ارْفَعْ بَصَرَكَ فَانْظُرْ فِي الْجِنَانِ ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ : أَيْ رَبِّ ، أَرَى مَدَائِنَ مِنْ فِضَّةٍ ، وَقُصُورًا مِنْ ذَهَبٍ ، مُكَلَّلَةً بِاللُّؤْلُؤِ لِأَيِّ نَبِيٍّ هَذَا ؟ لِأَيِّ صِدِّيقٍ هَذَا ؟ لِأَيِّ شَهِيدٍ هَذَا ؟ قَالَ : هَذَا لِمَنْ أَعْطَى الثَّمَنَ ، قَالَ : يَا رَبِّ وَمَنْ يَمْلِكُ ذَلِكَ ؟ قَالَ جَلَّ وَعَلَا : أَنْتَ تَمْلِكُهُ ، قَالَ : بِمَاذَا يَا رَبِّ ؟ قَالَ : تَعْفُو عَنْ أَخِيكَ ، قَالَ : يَا رَبِّ ، فَإِنِّي قَدْ عَفَوْتُ عَنْهُ ، قَالَ اللهُ تَعَالَى : خُذْ بِيَدِ أَخِيكَ ، فَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ : فَاتَّقُوا اللهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ ، فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُصْلِحُ بَيْنَ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ .
ضَعِيفٌ جِدًّا .
ترجمہ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ہم نے آپ ﷺ کو اس طرح تبسم فرماتے دیکھا کہ آپ ﷺ کے سامنے والے دانت مبارک ظاہر ہو گئے، جس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کس بات پر ہنسے؟“ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میری امت کے دو آدمی اللہ رب العزت جل جلالہ کے سامنے گھٹنوں کے بل پیش ہوئے، تو ان میں سے ایک نے التجا کی: «يَا رَبِّ ، خُذْ لِي مَظْلَمَتِي مِنْ أَخِي» ”اے میرے پروردگار! میرے اس بھائی سے میری حق تلفی کا بدلہ دلائیے۔“ اس پر اللہ عزوجل نے (دوسرے شخص سے) فرمایا: ”اپنے بھائی کو اس کا حق لوٹا دو۔“ اس نے عرض کی: ”اے میرے مالک! اب میری نیکیوں میں سے تو کچھ بھی باقی نہیں بچا (کہ اسے دے سکوں)۔“ تو فریادی نے عرض کی: ”اے میرے رب! پھر میرے گناہوں کا بوجھ اس پر ڈال دیا جائے۔“ (یہ بیان کرتے ہوئے) رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”یقیناً وہ دن بہت عظیم ہوگا، لوگ اس دن اس بات کے شدید ضرورت مند ہوں گے کہ ان کے گناہوں کا بوجھ کوئی دوسرا اٹھا لے۔“ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے مطالبہ کرنے والے شخص سے فرمایا: ”اپنی نگاہیں اٹھاؤ اور ان جنتوں کی طرف دیکھو۔“ اس نے اپنا سر اٹھایا اور عرض کی: ”اے میرے رب! میں چاندی کے بنے ہوئے شہر اور سونے کے بنے ہوئے محلات دیکھ رہا ہوں جو موتیوں سے جڑے ہوئے ہیں، یہ کس نبی، کس صدیق یا کس شہید کے لیے ہیں؟“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”یہ اس کے لیے ہے جو اس کی قیمت ادا کر دے۔“ اس نے عرض کی: ”اے میرے رب! بھلا اس کی قیمت کا مالک کون ہو سکتا ہے؟“ اللہ جل وعلا نے فرمایا: ”تم اس کی قیمت ادا کر سکتے ہو۔“ اس نے پوچھا: ”اے میرے رب! وہ کیسے؟“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اپنے بھائی کو معاف کر دینے کے بدلے۔“ اس نے فوراً عرض کی: ”اے میرے رب! میں نے اسے معاف کر دیا۔“ تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اپنے بھائی کا ہاتھ پکڑو اور اسے بھی (اپنے ساتھ) جنت میں داخل کرو۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”پس تم اللہ سے ڈرو اور آپس کے معاملات کی اصلاح کرو، کیونکہ اللہ عزوجل بھی قیامت کے دن مومنوں کے درمیان صلح کروائے گا۔“
یہ روایت سنداً سخت ضعیف ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4590
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: ضَعِيفٌ جِدًّا . »
«أخرجه المستدرك للحاكم برقم: 8816»