المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ معرفة أَوَّلِ مَا يخاطب اللَّهُ تَعَالَى بِهِ المؤمنين باب: اللہ تعالیٰ کے مومنین سے سب سے پہلے خطاب کا بیان۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ زَحْرٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنْ شِئْتُمْ أَنْبَأْتُكُمْ بِأَوَّلِ مَا يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَبِأَوَّلِ مَا يَقُولُونَ ، قَالُوا : نَعَمْ ، يَا رَسُولَ اللهِ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقُولُ لِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : أَحْبَبْتُمْ لِقَائِي ؟ فَيَقُولُونَ : نَعَمْ ، يَا رَبَّنَا ، [فَيَقُولُ : لِمَ ؟ فَيَقُولُونَ : رَجَوْنَا عَفْوَكَ وَمَغْفِرَتَكَ] ، فَيَقُولُ : فَإِنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ لَكُمْ رَحْمَتِي .سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس پہلی بات کے متعلق آگاہ کروں جو اللہ عزوجل قیامت کے دن اہل ایمان سے فرمائے گا اور اس پہلی بات کے بارے میں بھی جو وہ (اہلِ ایمان) اللہ سے عرض کریں گے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”جی ہاں، اے اللہ کے رسول!“، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کے دن اہل ایمان سے فرمائے گا: ”کیا تم میری ملاقات کو پسند کرتے تھے؟“ وہ عرض کریں گے: ”جی ہاں، اے ہمارے رب!“، اللہ عزوجل دریافت فرمائے گا: ”کس وجہ سے (تمہیں میری ملاقات کی تڑپ تھی)؟“ وہ عرض کریں گے: «رَجَوْنَا عَفْوَكَ وَمَغْفِرَتَكَ» ”ہمیں آپ کے عفو اور درگزر اور مغفرت کی امید تھی“، تب اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”تو اب یقیناً میں نے تمہارے لیے اپنی رحمت کو لازم اور واجب کر دیا ہے“۔
اس حدیث کو امام احمد نے مسند (22055) میں اور ابویعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے؛ اس کی سند میں عبید اللہ بن زحر اور علی بن یزید الہانی کی وجہ سے بعض محدثین نے کلام کیا ہے، تاہم دیگر شواہد کی بنا پر اس کا مفہوم و معنی مستند ہے۔