❮
❯
حدیث نمبر: 4591
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ التَّمَّارُ ، ثَنَا كَوْثَرُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ ، قَالَ : بَلَغَنَا أَنَّهُ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ نَادَى مُنَادٍ : أَيْنَ أَهْلُ الْعَفْوِ ؟ قَالَ : فَيُكَافِئُهُمُ اللهُ تَعَالَى بِمَا كَانَ مِنْ عَفْوِهِمْ عَنِ النَّاسِ .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما خلیفہ راشد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: ”ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ جب قیامت کا دن برپا ہوگا تو ایک پکارنے والا بلند آواز سے یہ اعلان کرے گا: معاف کر دینے والے اور درگزر کرنے والے لوگ کہاں ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پس اللہ تبارک و تعالیٰ لوگوں کے ساتھ ان کے عفو و درگزر والے رویے کے صلے میں انہیں اپنی شانِ کریمی کے مطابق بہترین جزا اور بدلہ عطا فرمائے گا۔“
اس روایت کی سند میں کوثر بن حکیم "متروک الحدیث" راوی ہے، اس لیے یہ روایت سنداً ضعیف ہے؛ اسے امام احمد بن منیع نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے (دیکھئے: اتحاف الخيرة المهرة، بوسائری: 4616)۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4591
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا »
«أخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 2586»