المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ شفاعة المؤمنين باب: مومنین کی شفاعت کا بیان۔
حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي سَارَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ لَيُشْرِفُ عَلَى الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، فَيُنَادِي مَنْ فِي النَّارِ : يَا فُلَانُ أَمَا تَعْرِفُنِي ؟ قَالَ : لَا ، وَاللهِ لَا أَعْرِفُكَ ، مَنْ أَنْتَ وَيْحَكَ ؟ قَالَ : أَنَا الَّذِي مَرَرْتَ بِي فِي الدُّنْيَا ، فَاسْتَسْقَيْتَنِي شَرْبَةً مِنْ مَاءٍ فَسَقَيْتُكَ ، فَاشْفَعْ لِي بِهَا عِنْدَ رَبِّكَ ، قَالَ : فَدَخَلَ ذَلِكَ الرَّجُلُ عَلَى اللهِ فِي زَوْرِهِ ، فَقَالَ : يَا رَبِّ إِنِّي أَشْرَفْتُ عَلَى أَهْلِ النَّارِ ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، فَنَادَى : يَا فُلَانُ أَمَا تَعْرِفُنِي ؟ فَقُلْتُ : وَاللهِ مَا أَعْرِفُكَ ، وَمَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : أَنَا الَّذِي مَرَرْتَ بِي فِي الدُّنْيَا ، فَاسْتَسْقَيْتَنِي فَسَقَيْتُكَ ، فَاشْفَعْ لِي بِهَا عِنْدَ رَبِّكَ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ فَشَفِّعْنِي فِيهِ ، قَالَ : فَيُشَفِّعُهُ اللهُ فِيهِ وَيُخْرِجُهُ مِنَ النَّارِ .سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اہلِ جنت میں سے ایک شخص جہنمیوں میں سے ایک آدمی پر مطلع ہوگا، تو وہ دوزخی پکار کر کہے گا: اے فلاں! کیا تم مجھے پہچانتے نہیں ہو؟ وہ جنتی جواب دے گا: نہیں، اللہ کی قسم! میں تمہیں نہیں پہچانتا، تم کون ہو، تمہارا بھلا ہو؟ وہ شخص کہے گا: میں وہی تو ہوں جس کے پاس سے تم دنیا میں گزرے تھے اور تم نے مجھ سے پینے کے لیے پانی مانگا تھا اور میں نے تمہیں پانی پلایا تھا، لہٰذا آج اپنے رب کے حضور اس نیکی کے بدلے میری سفارش کر دو۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”چنانچہ وہ جنتی شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں باریابی کے وقت عرض گزار ہوگا: اے میرے پروردگار! میں نے اہلِ جہنم کی طرف جھانکا تو آگ والوں میں سے ایک شخص اٹھ کھڑا ہوا اور اس نے صدا دی کہ اے فلاں! کیا تم مجھے پہچانتے نہیں ہو؟ میں نے کہا: بخدا! میں تجھے نہیں جانتا، تو کون ہے؟ اس نے کہا: میں وہ ہوں جس کے پاس سے تم دنیا میں گزرے تھے اور تم نے مجھ سے پانی مانگا تھا تو میں نے تمہیں پانی پلایا تھا، لہٰذا اپنے رب کے ہاں میری شفاعت کرو، تو وہ جنتی عرض کرے گا: اے میرے رب! اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما، چنانچہ اللہ تعالیٰ اس کے بارے میں اس کی سفارش قبول فرما لے گا اور اسے جہنم کی آگ سے نکال دے گا۔“
اس حدیث کی تخریج امام بزار نے اپنی مسند (رقم: 7543) میں کی ہے، تاہم اس کی سند میں علی بن ابی سارہ کی وجہ سے ضعف پایا جاتا ہے اور علامہ البانی نے اسے ’ضعیف‘ قرار دیا ہے۔