❮
❯
حدیث نمبر: 4584
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ دَاوُدَ ، ثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَخْرُجُ صُفُوفُ أَهْلِ النَّارِ ، فَيَمُرُّ الرَّجُلُ بِالرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَيَقُولُ : يَا فُلَانُ أَمَا تَعْرِفُنِي ؟ فَيَقُولُ : وَمَنْ أَنْتَ ؟ فَيَقُولُ : أَنَا الَّذِي اسْتَوْهَبْتَنِي وَضُوءًا فَوَهَبْتُ لَكَ ، فَيَشْفَعُ لَهُ ، فَيُشَفَّعُ فِيهِ ، وَيَمُرُّ الرَّجُلُ بِالرَّجُلِ ، فَيَقُولُ : يَا فُلَانُ أَمَا تَعْرِفُنِي ؟ فَيَقُولُ : وَمَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : أَمَا بَعَثْتَنِي فِي حَاجَةِ كَذَا وَكَذَا فَقَضَيْتُهَا لَكَ ، فَيَشْفَعُ لَهُ ، فَيُشَفَّعُ فِيهِ .
فِيهِ الرَّقَاشِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ .
4584 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، ثَنَا يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، بِهِ .
يُوسُفُ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ .
ترجمہ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اہلِ جہنم کی صفیں (جنت والوں کے سامنے سے) گزاری جائیں گی، تو ان میں سے ایک شخص اہلِ جنت کے ایک شخص کے پاس سے گزرے گا اور کہے گا: اے فلاں! کیا تم مجھے نہیں پہچانتے؟ وہ پوچھے گا: تم کون ہو؟ وہ کہے گا: میں وہی ہوں جس سے تم نے وضو کے لیے پانی مانگا تھا اور میں نے تمہیں پانی فراہم کیا تھا، پس وہ جنتی اس کے حق میں سفارش کرے گا اور اس کی شفاعت قبول کر لی جائے گی۔ اسی طرح ایک اور شخص گزرے گا اور کہے گا: اے فلاں! کیا تم مجھے نہیں پہچانتے؟ وہ پوچھے گا: تم کون ہو؟ وہ کہے گا: کیا تم نے مجھے فلاں فلاں کام کی غرض سے نہیں بھیجا تھا اور میں نے تمہاری وہ ضرورت پوری کی تھی؟ پس وہ (جنتی) اس کے لیے سفارش کرے گا اور اس کے حق میں اس کی شفاعت قبول کر لی جائے گی۔“
اس کی سند میں یزید رقاشی ہے جو کہ ضعیف راوی ہے۔
امام ابو یعلیٰ نے اس کی تخریج عباس بن ولید نرسی، یوسف بن خالد اور اعمش کے واسطے سے کی ہے۔
یوسف بن خالد متروک الحدیث ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4584
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: فِيهِ الرَّقَاشِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . يُوسُفُ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ . »
«أخرجه سنن ابن ماجه برقم: 3685، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 6507، وأخرجه شرح السنة برقم: 4352، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 7775/1»