المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ شفاعة المؤمنين باب: مومنین کی شفاعت کا بیان۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، ثَنَا رَوْحُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، ثَنَا يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَهُ .....
وَزَادَ قَالَ : وَقَالَ : وَتَصْدِيقُ هَذَا فِي الْقُرْآنِ : إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُدْخَلا كَرِيمًا الْآيَةَ ، فَهَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ الْكَبَائِرَ ، وَهَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَقَعُونَ فِيهَا ، ثَبَتَتْ لَهُمْ شَفَاعَةُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (نبی کریم ﷺ نے اس بات کا تذکرہ فرمایا) اور مزید ارشاد فرمایا: ”اس حقیقت کی تصدیق قرآنِ مجید میں بھی موجود ہے: ﴿إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُدْخَلًا كَرِيمًا﴾ [سورة النساء: 31] یعنی ”اگر تم ان بڑے گناہوں سے اجتناب کرو گے جن سے تمہیں روکا جاتا ہے، تو ہم تمہارے (چھوٹے) گناہ معاف کر دیں گے اور تمہیں عزت والی جگہ (جنت) میں داخل کریں گے“۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”پس وہ لوگ جو کبیرہ گناہوں سے بچتے ہیں، اور وہ لوگ جو ان (کبیرہ گناہوں) میں مبتلا ہو جاتے ہیں، ان سب کے لیے محمد ﷺ کی شفاعت ثابت اور برحق ہے۔“
اس حدیث کی تخریج امام بیہقی نے ”شعب الایمان“ (4611) میں کی ہے، اس کی سند میں یزید بن ابان الرقاشی ضعیف راوی ہے، البتہ گناہگار مومنین کے لیے شفاعتِ نبوی ﷺ کا مفہوم دیگر مستند و صحیح احادیث سے ثابت ہے۔