المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ شفاعة المؤمنين باب: مومنین کی شفاعت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو ظِلَالٍ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : سَلَكَ رَجُلَانِ مَفَازَةً ، أَحَدُهُمَا عَابِدٌ ، وَالْآخَرُ بِهِ رَهَقٌ ، فَعَطِشَ الْعَابِدُ حَتَّى سَقَطَ ، فَجَعَلَ صَاحِبُهُ يَنْظُرُ إِلَيْهِ وَهُوَ صَرِيعٌ ، فَقَالَ : وَاللهِ ، لَئِنْ مَاتَ هَذَا الْعَبْدُ الصَّالِحُ عَطَشًا وَمَعِي مَاءٌ ، لَا أَصَبْتُ مِنَ اللهِ خَيْرًا ، وَإِنْ سَقَيْتُهُ مَائِي لَأَمُوتَنَّ ، فَتَوَكَّلَ عَلَى اللهِ تَعَالَى ، وَعَزَمَ وَرَشَّ عَلَيْهِ مِنْ مَائِهِ وَسَقَاهُ مِنْ فَضْلِهِ ، فَقَامَ حَتَّى قَطَعَا الْمَفَازَةَ ، قَالَ : فَيُوقَفُ الَّذِي بِهِ رَهَقٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِلْحِسَابِ ، فَيُؤْمَرُ بِهِ إِلَى النَّارِ ، فَتَسُوقُهُ الْمَلَائِكَةُ ، فَيَرَى الْعَابِدَ ، فَيَقُولُ : يَا فُلَانُ أَمَا تَعْرِفُنِي ؟ فَيَقُولُ : مَنْ أَنْتَ ؟ فَيَقُولُ : أَنَا فُلَانٌ الَّذِي آثَرْتُكَ عَلَى نَفْسِي يَوْمَ الْمَفَازَةِ ، قَالَ : فَيَقُولُ : بَلَى أَعْرِفُكَ ، فَيَقُولُ لِلْمَلَائِكَةِ : قِفُوا ، فَيُوقَفُ وَيَجِيءُ حَتَّى يَقِفَ وَيَدْعُوَ رَبَّهُ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، قَدْ تَعْرِفُ يَدَهُ عِنْدِي ، وَكَيْفَ آثَرَنِي عَلَى نَفْسِهِ ، يَا رَبِّ ، هَبْهُ لِي ، فَيَقُولُ جَلَّ وَعَلَا : هُوَ لَكَ ، قَالَ : فَيَجِيءُ فَيَأْخُذُ بِيَدِهِ ، فَيُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ .
قَالَ جَعْفَرٌ : قُلْتُ لَهُ : حَدَّثَكَ أَنَسٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ؟ قَالَ : نَعَمْ .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”دو شخص ایک تپتے ہوئے ریگستان سے گزر رہے تھے، ان میں سے ایک نہایت عبادت گزار تھا جبکہ دوسرے کے اعمال میں کچھ بے راہ روی اور کوتاہیاں (رھق) تھیں، پس وہ عابد پیاس کی شدت سے نڈھال ہو کر گر پڑا، اس کا ساتھی اسے بے ہوشی کی حالت میں زمین پر پچھاڑا ہوا دیکھ کر (اپنے جی میں) کہنے لگا: اللہ کی قسم! اگر اللہ کا یہ نیک بندہ پیاس کی وجہ سے فوت ہو گیا جبکہ میرے پاس پانی موجود ہے، تو اللہ کے ہاں مجھے کبھی خیر نصیب نہیں ہوگی، اور اگر میں نے اسے اپنا پانی پلا دیا تو یقیناً میں خود پیاس سے مر جاؤں گا، بالآخر اس نے اللہ تعالیٰ پر توکل کیا اور (ایثار کا) پختہ عزم کر لیا، چنانچہ اس نے اپنا کچھ پانی اس عابد پر چھڑکا اور باقی اسے پلا دیا، پس وہ عابد ہوش میں آ کر کھڑا ہو گیا یہاں تک کہ ان دونوں نے وہ بیابان پار کر لیا۔“ آپ ﷺ نے مزید فرمایا: ”پھر قیامت کے دن اس گناہ گار شخص کو حساب کے لیے پیش کیا جائے گا اور اس کے متعلق جہنم کا حکم ہو جائے گا، چنانچہ جب فرشتے اسے ہنکا کر لے جا رہے ہوں گے تو وہ اس عابد کو دیکھ کر پکارے گا: اے فلاں! کیا تم مجھے پہچانتے ہو؟ وہ عابد کہے گا: تم کون ہو؟ وہ جواب دے گا: میں وہی شخص ہوں جس نے ریگستان والے دن اپنی جان پر تمہیں ترجیح دی تھی، عابد کہے گا: ہاں! میں تمہیں پہچانتا ہوں، پھر وہ فرشتوں سے کہے گا: رک جاؤ! چنانچہ اسے روک دیا جائے گا اور وہ عابد بارگاہِ الہی میں حاضر ہو کر اپنے رب سے التجا کرے گا: «يَا رَبِّ ، قَدْ تَعْرِفُ يَدَهُ عِنْدِي ، وَكَيْفَ آثَرَنِي عَلَى نَفْسِهِ ، يَا رَبِّ ، هَبْهُ لِي» ”اے میرے پروردگار! تو اس کے مجھ پر احسان کو بخوبی جانتا ہے اور یہ بھی کہ اس نے کس طرح اپنی جان پر مجھے ترجیح دی تھی، اے میرے رب! اسے میری خاطر بخش دے اور مجھے ہبہ کر دے۔“ تو اللہ عزوجل ارشاد فرمائے گا: ”وہ تمہارے لیے ہے (یعنی میں نے اسے تمہیں عطا کر دیا)۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: پھر وہ عابد آئے گا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے جنت میں داخل کر دے گا۔“
جعفر (راوی) کہتے ہیں کہ میں نے (اپنے استاد ابو ظلال سے) پوچھا: کیا آپ سے یہ حدیث سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے خود بیان کی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔