المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ الشفاعة وَفِيهِ أحاديث مِنْ البعث باب: شفاعت اور بعث سے متعلق احادیث کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرْكَانِيُّ ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ ، قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : تُمَدُّ الْأَرْضُ مَدَّ الْأَدِيمِ ، لِعَظَمَةِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ، فَلَا يَكُونُ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي آدَمَ فِيهَا إِلَّا مَوْضِعُ قَدَمَيْهِ ، ثُمَّ أُدْعَى أَوَّلَ النَّاسِ فَأَخِرُّ سَاجِدًا ، ثُمَّ يُؤْذَنُ لِي فَأَقُولُ : يَا رَبِّ ، أَخْبَرَنِي هَذَا - وَجِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَنْ يَمِينِ الْعَرْشِ ، وَاللهِ مَا رَآهُ قَطُّ قَبْلَهَا أَنَّكَ أَرْسَلْتَهُ إِلَيَّ ، وَجِبْرِيلُ سَاكِتٌ لَا يَتَكَلَّمُ ، فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : صَدَقَ ، ثُمَّ يُؤْذَنُ لِي فِي الشَّفَاعَةِ ، فَأَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، عِبَادُكَ عَبَدُوكَ فِي أَطْرَافِ الْأَرْضِ ، وَذَلِكَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ .
صَحَّحَهُ الْحَاكِمُ .امام علی بن حسین رحمہ اللہ ایک صاحبِ علم شخصیت سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ عزوجل کی عظمت و جلال کی خاطر (قیامت کے دن) زمین کو چمڑے کی طرح کھینچ کر پھیلا دیا جائے گا، اس وقت ہجوم کی شدت سے اولادِ آدم میں سے کسی شخص کے لیے زمین پر اپنے دونوں قدموں کی جگہ کے سوا کوئی جگہ نہ ہوگی، پھر سب سے پہلے مجھے بلایا جائے گا تو میں (بارگاہِ الٰہی میں) سجدہ ریز ہو جاؤں گا، پھر مجھے اجازت دی جائے گی تو میں عرض کروں گا: اے میرے رب! اس نے مجھے خبر دی تھی - اور حضرت جبریل علیہ السلام اس وقت عرش کی دائیں جانب موجود ہوں گے، اللہ کی قسم! آپ ﷺ نے اس سے پہلے انہیں (ان کی اصلی صورت میں) کبھی نہ دیکھا ہوگا - کہ تو نے ہی اسے میری طرف (وحی دے کر) بھیجا تھا، اس وقت جبریل علیہ السلام بالکل خاموش ہوں گے، کچھ نہیں بولیں گے، تب اللہ عزوجل فرمائے گا: ”اس نے سچ کہا ہے“، پھر مجھے شفاعت کا اذن عطا کیا جائے گا تو میں عرض کروں گا: «أَيْ رَبِّ ، عِبَادُكَ عَبَدُوكَ فِي أَطْرَافِ الْأَرْضِ» ”اے میرے پروردگار! یہ تیرے وہ بندے ہیں جنہوں نے زمین کے اطراف و اکناف میں تیری ہی بندگی کی تھی“، اور یہی وہ مقامِ محمود ہے (جس کا تذکرہ قرآنِ کریم کی اس آیت میں ہے: ﴿عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا﴾ [سورة الإسراء: 79])۔“
امام حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔