المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ الشفاعة وَفِيهِ أحاديث مِنْ البعث باب: شفاعت اور بعث سے متعلق احادیث کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، ثَنَا أَبُو شِهَابٍ ، ثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ ، قَالَ : قَالَ أَنَسٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَقْرَعُ بَابَ الْجَنَّةِ ، فَيُفْتَحُ بَابٌ مِنْ ذَهَبٍ ، وَحَلْقَةٌ مِنْ فِضَّةٍ ، فَيَسْتَقْبِلُنِي النُّورُ الْأَكْبَرُ فَأَخِرُّ سَاجِدًا ، فَأُلْقِي مِنَ الثَّنَاءِ عَلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا لَمْ يُلْقِ أَحَدٌ قَبْلِي ، فَيُقَالُ : ارْفَعْ رَأْسَكَ ، وَسَلْ تُعْطَهْ ، وَقُلْ تُسْمَعْ ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ ، فَأَقُولُ : أُمَّتِي ، فَيُقَالُ : لَكَ مَنْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ شَعِيرَةٍ ، إِلَى أَنْ قَالَ : خَرْدَلَةً ، إِلَى أَنْ قَالَ : مَنْ قَالَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ .سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں جنت کا دروازہ دستک دے کر کھٹکھٹاؤں گا، تو سونے کا ایک دروازہ کھولا جائے گا جس کا حلقہ چاندی کا ہوگا، پھر میرے سامنے اللہ رب العزت کا نورِ عظیم جلوہ افروز ہوگا اور میں (بارگاہِ الٰہی میں) سجدہ ریز ہو جاؤں گا، اس وقت مجھ پر اللہ عزوجل کی ایسی ایسی حمد و ثنا الہام کی جائے گی جو مجھ سے پہلے کسی بشر پر نہیں کی گئی، پھر (ارشادِ قدرت) ہوگا: اپنا سر اٹھائیے، مانگیے آپ کو نوازا جائے گا، کہیے آپ کی بات کان دھر کر سنی جائے گی اور شفاعت کیجیے آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی۔ پس میں عرض کروں گا: اے میرے رب! میری امت کی گلو خلاصی فرما، تو جواباً ارشاد ہوگا: آپ کے لیے (جنت میں لے جانے کا اختیار) ہے ہر اس شخص کے حق میں جس کے دل میں جو کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے رائی کے دانے کی مقدار کا ذکر فرمایا، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے فرمایا: (ہر اس شخص کی مغفرت ہو جائے گی) جس نے «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ» ”اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں“ کہا ہوگا۔“
امام ابو یعلیٰ نے اسے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں یزید بن ابان الرقاشی ضعیف راوی ہے، تاہم اس حدیث کے اکثر اجزاء صحیحین اور دیگر مستند کتبِ احادیث میں مختلف اسانید سے مروی ہیں جو اسے تقویت فراہم کرتے ہیں۔