❮
❯
حدیث نمبر: 4576
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا شُجَاعٌ الْبَلْخِيُّ ، ثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمَّازٍ ، عَنِ الرَّقَاشِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا أَزَالُ أَشْفَعُ لِأُمَّتِي ، حَتَّى يُقَالَ : يَا مُحَمَّدُ أَخْرِجْ مِنَ النَّارِ مَنْ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ شَعِيرَةٍ ، إِلَى أَنْ قَالَ : فَيُقَالُ : يَا مُحَمَّدُ أَخْرِجْ مَنْ فِي قَلْبِهِ مِقْدَارُ جَنَاحِ بَعُوضَةٍ مِنْ إِيمَانٍ .
ترجمہ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں اپنی امت کے حق میں مسلسل شفاعت (سفارش) کرتا رہوں گا، یہاں تک کہ (اللہ تعالیٰ کی جانب سے) کہا جائے گا: اے محمد! دوزخ کی آگ سے ہر اس شخص کو نکال لیجیے جس کے دل میں ایک جو کے وزن کے برابر بھی ایمان موجود ہو، (آپ ﷺ نے شفاعت کا سلسلہ جاری رکھا) یہاں تک کہ فرمایا: پھر مجھ سے کہا جائے گا: اے محمد! ہر اس شخص کو بھی نکال لائیے جس کے دل میں مچھر کے پر کے برابر بھی ایمان ہو۔“
اس حدیث کو امام احمد بن منیع نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں ہیثم بن جماز اور یزید الرقاشی نامی راوی موجود ہیں جو کہ جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، تاہم شفاعت اور ایمان کے ادنیٰ درجے پر جہنم سے خلاصی کے متعلق احادیثِ صحیحہ میں کثیر شواہد اور صحیح روایات موجود ہیں جن سے اس مفہوم کی تائید ہوتی ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4576
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف »
«أخرجه صحيح البخاري برقم: 44، وأخرجه صحيح مسلم برقم: 193، وأخرجه صحيح ابن حبان برقم: 6464، وأخرجه الأحاديث المختارة للضياء برقم: 2345، وأخرجه المستدرك للحاكم برقم: 234، وأخرجه السنن الكبرى للنسائي برقم: 7643، وأخرجه جامع الترمذي برقم: 2593، وأخرجه مسند الدارمي برقم: 51، وأخرجه سنن ابن ماجه برقم: 4312، وأخرجه السنن الكبرى للبيهقي برقم: 19954، وأخرجه مسند أحمد برقم: 2737، وأخرجه مسند الطيالسي برقم: 2078، وأخرجه مسند الحميدي برقم: 1238، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 2786، وأخرجه المنتخب من مسند عبد بن حميد برقم: 1172، وأخرجه مسند البزار برقم: 6223، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 4577، وأخرجه مصنف عبد الرزاق برقم: 20859، وأخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 31024، وأخرجه شرح مشكل الآثار للطحاوي برقم: 5663، وأخرجه المعجم الصغير للطبراني برقم: 875، وأخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 1155»