المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ الشفاعة وَفِيهِ أحاديث مِنْ البعث باب: شفاعت اور بعث سے متعلق احادیث کا بیان۔
حدیث نمبر: 4571
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانَ ، ثَنَا بَشِيرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا سَيَسْأَلُهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ ، لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ حِجَابٌ وَلَا تُرْجُمَانٌ .
4571 \ 2 - رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، عَنْ صَفْوَانَ الْمُفْلِسِ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَأَشَارَ إِلَى تَفَرُّدِهِ بِهِ .ترجمہ
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کوئی بھی ایسا شخص نہیں ہے مگر یہ کہ عنقریب رب العالمین اس سے خود سوال فرمائیں گے، اس حال میں کہ اللہ تعالیٰ اور اس بندے کے درمیان نہ تو کوئی حجاب و رکاوٹ ہوگی اور نہ ہی کوئی ترجمانی کرنے والا (ترجمان) موجود ہوگا۔“
اس حدیث کو امام بزار نے صفوان المفلس کے واسطے سے عبد العزیز بن ابان سے روایت کیا ہے اور انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ عبد العزیز اس حدیث کو نقل کرنے میں منفرد ہیں۔