المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ الشفاعة وَفِيهِ أحاديث مِنْ البعث باب: شفاعت اور بعث سے متعلق احادیث کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ صِلَةَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : يُجْمَعُ النَّاسُ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ ، فَيُسْمِعُهُمُ الدَّاعِي وَيَنْفُذُهُمُ الْبَصَرُ ، فَأَوَّلُ مَدْعُوٍّ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَقُولُ : لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ ، وَالْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ ، عَبْدُكَ بَيْنَ يَدَيْكَ ، أَنَا مِنْكَ وَإِلَيْكَ ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَى مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ ، سُبْحَانَكَ رَبَّ الْبَيْتِ ، فَهُوَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ : عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا .سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”قیامت کے دن تمام لوگوں کو ایک ہی ہموار میدان میں اکٹھا کیا جائے گا، جہاں پکارنے والا سب کو اپنی آواز سنا سکے گا اور سب کی نگاہیں (منظر کو) محیط ہوں گی۔ اس دن سب سے پہلے جس ہستی کو پکارا جائے گا وہ محمد ﷺ ہوں گے، تو آپ ﷺ (بارگاہِ الہٰی میں) عرض کریں گے: «لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، وَالْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ، عَبْدُكَ بَيْنَ يَدَيْكَ، أَنَا مِنْكَ وَإِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَى مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، سُبْحَانَكَ رَبَّ الْبَيْتِ» ”میں تیری پکار پر حاضر ہوں اور تیری فرمانبرداری کے لیے ہمہ وقت تیار ہوں، تمام تر بھلائیاں تیرے ہی دستِ قدرت میں ہیں اور شر کا تیری ذات کی طرف کوئی انتساب نہیں، ہدایت یافتہ وہی ہے جسے تو ہدایت عطا فرمائے، تیرا یہ عاجز بندہ تیرے ہی حضور پیش ہے، میرا وجود تیری ہی عطا سے ہے اور میرا رجوع بھی تیری ہی طرف ہے، تیرے (مواخذے) سے بچنے کے لیے تیرے سوا نہ کوئی جائے پناہ ہے اور نہ ہی کوئی جائے نجات، تو بہت بابرکت اور نہایت بلند و برتر ہے، اے بیت اللہ کے رب! تو ہر عیب سے پاک ہے“۔ پس یہی وہ مقام ہے جس کے بارے میں اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا: ﴿عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا﴾ [سورة الإسراء: 79] ”یقیناً آپ کا رب آپ کو مقامِ محمود (ایسا بلند مقام جہاں اولین و آخرین آپ کی تعریف کریں) پر فائز فرمائے گا“۔
اس حدیث کو امام نسائی نے السنن الکبریٰ (11270) اور امام حاکم نے المستدرک (3638) میں روایت کیا ہے، اور امام حاکم نے اسے امام بخاری و مسلم کی شرائط پر صحیح قرار دیا ہے۔