❮
❯
حدیث نمبر: 4570
حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، ثَنَا صَالِحٌ الْمُرِّيُّ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يُؤْتَى بِابْنِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيُوقَفُ بَيْنَ كِفَّتَيِ الْمِيزَانِ ، وَيُوَكَّلُ بِهِ مَلَكٌ ، فَإِنْ ثَقُلَ مِيزَانُهُ نَادَى الْمَلَكُ بِصَوْتٍ يُسْمِعُ الْخَلَائِقَ : سَعِدَ فُلَانٌ سَعَادَةً لَا يَشْقَى بَعْدَهَا أَبَدًا ، وَإِنْ خَفَّ مِيزَانُهُ ، نَادَى الْمَلَكُ بِصَوْتٍ يُسْمِعُ الْخَلَائِقَ : شَقِيَ فُلَانٌ شَقَاوَةً لَا يَسْعَدُ بَعْدَهَا أَبَدًا .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي الْحَارِثِ ، عَنْ دَاوُدَ ، وَقَالَ : لَا نَعْلَمُ رَوَاهُ عَنْ ثَابِتٍ إِلَّا صَالِحٌ ، وَلَا عَنْ جَعْفَرٍ إِلَّا صَالِحٌ .
ترجمہ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے دن ابنِ آدم کو لایا جائے گا اور اسے میزانِ عدل کے دونوں پلڑوں کے درمیان کھڑا کر دیا جائے گا، اور اس پر ایک فرشتہ مقرر کر دیا جائے گا؛ پھر اگر اس کے اعمال کا پلڑا بھاری ہو گیا تو وہ فرشتہ ایسی بلند آواز سے پکارے گا جسے تمام مخلوقات سنیں گی: ”فلاں شخص ایسی ابدی سعادت و کامرانی سے ہمکنار ہو گیا ہے جس کے بعد اسے کبھی کوئی بدبختی و شقاوت نہیں پہنچے گی۔“ اور اگر اس کے اعمال کا پلڑا ہلکا رہا، تو وہ فرشتہ ایسی پکار بلند کرے گا جو تمام مخلوقات کو سنائی دے گی: ”فلاں شخص ایسی دائمی بدبختی کا شکار ہو گیا ہے جس کے بعد وہ کبھی سعادت و خوش بختی نہیں پا سکے گا۔““
اسے امام بزار نے اسماعیل بن ابی الحارث کے واسطے سے داؤد سے روایت کیا ہے اور فرمایا کہ ہمارے علم کے مطابق اسے ثابت سے صرف صالح المری نے اور جعفر سے بھی صرف صالح ہی نے روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4570
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا »
«أخرجه مسند البزار برقم: 6942»