المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ صِفَةِ البعث باب: دوبارہ زندہ کیے جانے کی کیفیت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، ثَنَا يُونُسُ ( هُوَ ابْنُ بُكَيْرٍ ) ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرٍو الْعُتْوَارِيِّ ، وَكَانَ يَتِيمًا لِأَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِذَا جَمَعَ اللهُ تَعَالَى النَّاسَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، أَقْبَلَتِ النَّارُ يَرْكَبُ بَعْضُهَا بَعْضًا ، وَخَزَنَتُهَا يَكُفُّونَهَا ، وَهِيَ تَقُولُ : وَعِزَّةُ رَبِّي لَتُخَلِّيَنَّ بَيْنِي وَبَيْنَ أَزْوَاجِي أَوْ لَأَغْشَيَنَّ النَّاسَ عُنُقًا وَاحِدًا ، فَيَقُولُونَ : وَمَنْ أَزْوَاجُكِ ؟ فَتَقُولُ : كُلُّ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ ، فَتُخْرِجُ لِسَانَهَا ، فَتَلْتَقِطُهُمْ بِهَا مِنْ بَيْنِ ظَهْرَانَيِ النَّاسِ ، فَتَقْذِفُهُمْ فِيهَا ، ثُمَّ تَسْتَأْخِرُ ، ثُمَّ تُقْبِلُ يَرْكَبُ بَعْضُهَا بَعْضًا ، وَخَزَنَتُهَا يَكُفُّونَهَا ، وَهِيَ تَقُولُ : وَعِزَّةِ رَبِّي ، لِتُخَلِّيَنَّ بَيْنِي وَبَيْنَ أَزْوَاجِي أَوْ لَأَغْشَيَنَّ النَّاسَ عُنُقًا وَاحِدًا ، فَيَقُولُونَ : وَمَنْ أَزْوَاجُكِ ؟ فَتَقُولُ : كُلُّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ ، فَتَلْتَقِطُهُمْ بِلِسَانِهَا فَتَقْذِفُهُمْ فِي جَوْفِهَا ، ثُمَّ تَسْتَأْخِرُ ، وَيَقْضِي اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَ الْعِبَادِ .سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو ایک ہی میدان میں جمع فرمائے گا، تو دوزخ کی آگ اس حال میں سامنے آئے گی کہ اس کا ایک حصہ دوسرے پر چڑھ رہا ہو گا اور اس کے پہرے دار فرشتے اسے روک رہے ہوں گے۔ وہ آگ کہے گی: «وَعِزَّةِ رَبِّي لَتُخَلِّيَنَّ بَيْنِي وَبَيْنَ أَزْوَاجِي أَوْ لَأَغْشَيَنَّ النَّاسَ عُنُقًا وَاحِدًا» ”میرے پروردگار کی عزت کی قسم! تم میرے اور میرے جوڑوں (میرے لیے مقرر کردہ لوگوں) کے درمیان سے ہٹ جاؤ، ورنہ میں تمام لوگوں کو ایک ساتھ اپنی لپیٹ میں لے لوں گی۔“ فرشتے دریافت کریں گے: ”تیرے وہ جوڑے کون ہیں؟“ وہ جواب دے گی: ”ہر وہ شخص جو نہایت متکبر اور جابر و سرکش تھا“، پھر وہ آگ اپنی زبان نکالے گی اور انہیں لوگوں کے درمیان سے چن چن کر اچک لے گی اور اپنے اندر جھونک دے گی، پھر وہ پیچھے ہٹ جائے گی۔ اس کے بعد وہ دوبارہ اسی طرح جوش مارتی ہوئی آئے گی کہ اس کے شعلے ایک دوسرے پر سوار ہوں گے اور فرشتے اسے قابو کر رہے ہوں گے، وہ پھر پکارے گی: «وَعِزَّةِ رَبِّي لَتُخَلِّيَنَّ بَيْنِي وَبَيْنَ أَزْوَاجِي أَوْ لَأَغْشَيَنَّ النَّاسَ عُنُقًا وَاحِدًا» ”میرے رب کی عزت کی قسم! تم میرے اور میرے جوڑوں کے درمیان سے الگ ہو جاؤ، ورنہ میں تمام خلقت کو ایک ہی بار میں ڈھانپ لوں گی۔“ فرشتے پوچھیں گے: ”تیرے جوڑے کون ہیں؟“ وہ کہے گی: ”ہر وہ شخص جو خود پسند، اترانے والا اور فخر جتانے والا تھا“، چنانچہ وہ اپنی زبان سے انہیں لپک لے گی اور اپنے پیٹ کی گہرائی میں پھینک دے گی، پھر وہ پیچھے ہٹ جائے گی اور اللہ عزوجل بندوں کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند (رقم الحدیث: 4559) میں روایت کیا ہے، اس کی سند حسن درجے کی ہے، محمد بن اسحاق نے تحدیث کے ساتھ سماع کی تصریح کر دی ہے جس سے تدلیس کا خدشہ ختم ہو جاتا ہے، اور دیگر رواۃ ثقہ ہیں۔