❮
❯
حدیث نمبر: 4560
وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يُخْرِجُ اللهُ تَعَالَى قَوْمًا مِنَ النَّارِ بَعْدَمَا امْتُحِشُوا فِيهَا ، وَصَارُوا فَحْمًا ، فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرٍ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ ، يُسَمَّى نَهَرَ الْحَيَاةِ فَيَنْبُتُونَ فِيهَا كَمَا تَنْبُتُ الْحَبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ ، أَوْ كَمَا تَنْبُتُ الثَّعَارِيرُ ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ ، فَيُقَالَ : هَؤُلَاءِ عُتَقَاءُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ النَّارِ .
وَقَالَ رَجُلٌ مُتَّهَمٌ بِرَأْيِ الْخَوَارِجِ ، يُقَالُ لَهُ : هَارُونُ أَبُو مُوسَى ، أَوْ أَبُو مُوسَى بْنُ هَارُونَ : مَا هَذَا الَّذِي تُحُدِّثَ بِهِ أَبَا عَاصِمٍ ؟ فَقَالَ : إِلَيْكَ عَنِّي يَا عِلْجُ فَلَوْ لَمْ أَسْمَعْهُ مِنْ أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثِينَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ أُحَدِّثْ بِهِ .
صَحِيحٌ ، وَقَدْ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .
ترجمہ

عبید بن عمیر رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ایک ایسی قوم کو جہنم سے نکالے گا جو اس میں جل کر بالکل جھلس چکی ہو گی اور کوئلہ بن گئے ہوں گے، پھر انہیں جنت کے دروازے پر موجود ایک ایسی نہر میں ڈالا جائے گا جسے 'نہرِ حیات' (زندگی کی نہر) کہا جاتا ہے، پس وہ اس میں اس طرح (تیزی سے اور ترو تازہ ہو کر) اگیں گے جس طرح سیلاب کے بہاؤ میں آنے والے کوڑے کرکٹ اور مٹی میں بیج اگ آتا ہے، یا جس طرح سفید خود رو ترکاریاں تیزی سے اگتی ہیں، پھر وہ جنت میں داخل ہوں گے تو ان کے بارے میں کہا جائے گا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ عزوجل نے آگ سے خلاصی اور آزادی عطا فرمائی ہے۔“
اور خوارج کے نظریات کی طرف مائل ایک شخص، جس کا نام ہارون ابو موسیٰ یا ابو موسیٰ بن ہارون بتایا جاتا ہے، اس نے (اعتراضاً) دریافت کیا: اے ابو عاصم! یہ آپ کیسی حدیث بیان کر رہے ہیں؟ انہوں نے جواباً ارشاد فرمایا: ”اے جاہل و سرکش شخص! مجھ سے دور ہو جا، اگر میں نے یہ حدیث رسول اللہ ﷺ کے تیس سے زائد جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے نہ سنی ہوتی تو میں اسے کبھی بیان نہ کرتا۔“
یہ حدیث صحیح ہے، اور امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے ابن عیینہ کی روایت سے، عمرو بن دینار کے واسطے سے، سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے تخریج کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4560
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: صَحِيحٌ ، وَقَدْ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ . »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»