المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ صِفَةِ البعث باب: دوبارہ زندہ کیے جانے کی کیفیت کا بیان۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا هَوْذَةُ ، ثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ مُدَّتِ الْأَرْضُ مَدَّ الْأَدِيمِ فِي سَعَتِهَا كَذَا وَكَذَا ، وَجَمِيعُ الْخَلَائِقِ بِصَعِيدٍ وَاحِدٍ جِنِّهِمْ وِإِنْسِهِمْ ، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ قُيِّضَتْ هَذِهِ السَّمَاءُ الدُّنْيَا عَنْ أَهْلِهَا ، فَيُنْثَرُونَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ ، فَلَأَهْلُ السَّمَاءِ وَحْدَهُمْ أَكْثَرُ مِنْ جَمِيعِ أَهْلِ الْأَرْضِ وِجِنِّهِمْ وَإِنْسِهِمْ بِالضِّعْفِ ، فَإِذَا نُثِرُوا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ ، فَزِعَ إِلَيْهِمْ أَهْلُ الْأَرْضِ ، وَقَالُوا : فِيكُمْ رَبُّنَا ؟ فَيَفْزَعُونَ مِنْ قَوْلِهِمْ ، يَقُولُونَ : سُبْحَانَ رَبِّنَا لَيْسَ هُوَ فِينَا ، وَهُوَ آتٍ ، ثُمَّ يُقْبَضُ أَهْلُ السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ ، فَلَأَهْلُ السَّمَاءِ الثَّانِيَةِ وَحْدَهُمْ أَكْثَرُ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ الدُّنْيَا ، وَمِنْ جَمِيعِ أَهْلِ الْأَرْضِ بِالضِّعْفِ ، فَإِذَا نُثِرُوا عَلَى أَهْلِ وَجْهِ الْأَرْضِ فَزِعَ إِلَيْهِمْ أَهْلُ الْأَرْضِ ، وَقَالُوا : فِيكُمْ رَبُّنَا ؟ فَيَفْزَعُونَ مِنْ قَوْلِهِمْ ، وَيَقُولُونَ : سُبْحَانَ رَبِّنَا لَيْسَ فِينَا ، وَهُوَ آتٍ ، ثُمَّ تُقَاضُ السَّمَاوَاتُ كُلُّهَا ، فَتُضَعَّفُ كُلُّ سَمَاءٍ عَلَى السَّمَاءِ الَّتِي تَحْتَهَا وَجَمِيعِ أَهْلِ الْأَرْضِ ، كُلَّمَا نُثِرُوا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ ، فَزِعَ إِلَيْهِمْ أَهْلُ الْأَرْضِ ، وَيَقُولُونَ لَهُمْ مِثْلَ ذَلِكَ ، وَيَرْجِعُونَ إِلَيْهِمْ مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ تُقَاضُ أَهْلُ السَّمَاوَاتِ السَّابِعَةِ ، فَلَأَهْلُ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ أَكْثَرُ أَهْلًا مِنَ السَّمَاوَاتِ السِّتِّ ، وَمِنْ جَمِيعِ أَهْلِ الْأَرْضِ بِالضِّعْفِ ، فَيَجِيءُ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِيهِمْ ، وَالْأُمَمُ جُثًا صُفُوفًا ، فَيُنَادِي مُنَادٍ : سَتَعْلَمُونَ الْيَوْمَ مَنْ أَصْحَابُ الْكَرَمِ ، لِيَقُمِ الْحَمَّادُونَ رَبَّهُمْ عَلَى كُلِّ حَالٍ ، فَيَسْرَحُونَ إِلَى الْجَنَّةِ ، ثُمَّ يُنَادِي ثَانِيَةً : سَيَعْلَمُونَ الْيَوْمَ مَنْ أَصْحَابُ الْكَرَمِ ، لِيَقُمِ الَّذِينَ : تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ الْآيَةَ ، فَيَقُومُونَ فَيَسْرَحُونَ إِلَى الْجَنَّةِ ، ثُمَّ يُنَادِي ثَالِثَةً : لِيَقُمِ الَّذِينَ رِجَالٌ لا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللهِ الْآيَةَ ، فَيَقُومُونَ فَيَسْرَحُونَ إِلَى الْجَنَّةِ ، فَإِذَا أَخَذَ مِنْ هَؤُلَاءِ ثَلَاثَةً ، خَرَجَ عُنُقٌ مِنَ النَّارِ ، فَأَشْرَفَ عَلَى الْخَلَائِقِ ، لَهُ عَيْنَانِ تُبْصِرَانِ ، وَلِسَانٌ فَصِيحٌ ، فَيَقُولُ : إِنِّي وُكِّلْتُ بِثَلَاثَةٍ ، إِنِّي وُكِّلْتُ بِكُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ ، فَيَلْتَقِطُهُمْ مِنَ الصُّفُوفِ لَقْطَ الطَّيْرِ حَبَّ السُّمْسُمِ ، فَيَجْلِسُ بِهِمْ فِي جَهَنَّمَ ، ثُمَّ يَخْرُجُ ثَانِيَةً ، فَيَقُولُ : إِنِّي وُكِّلْتُ بِمَنْ آذَى اللهَ وَرَسُولَهُ ، ( قَالَ ) فَيَلْتَقِطُهُمْ مِنَ الصُّفُوفِ لَقْطَ الطَّيْرِ حَبَّ السُّمْسُمِ ، فَيَجْلِسُ بِهِمْ فِي جَهَنَّمَ ، ثُمَّ يَخْرُجُ ثَالِثَةً ، ( أَحْسِبُهُ قَالَ ) : فَيَقُولُ : إِنِّي وُكِّلْتُ بِأَصْحَابِ التَّصَاوِيرِ ، فَيَلْتَقِطُهُمْ مِنَ الصُّفُوفِ لَقْطَ الطَّيْرِ حَبَّ السُّمْسُمِ ، فَيَجْلِسُ بِهِمْ فِي جَهَنَّمَ ، فَإِذَا أَخَذَ مِنْ هَؤُلَاءِ ثَلَاثَةً ، وَمِنْ هَؤُلَاءِ ثَلَاثَةً ، نُشِرَتِ الصُّحُفُ وَوُضِعَتِ الْمَوَازِينُ ، وَدُعِيَ الْخَلَائِقُ لِلْحِسَابِ .
هَذَا مَوْقُوفٌ ، إِسْنَادُهُ حَسَنٌ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے قیامت کے احوال بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”جب قیامت کا دن ہوگا تو زمین کو اس کی وسعت کے مطابق چمڑے کی طرح اتنا اتنا پھیلا دیا جائے گا، اور تمام مخلوقات، جن و انس ایک ہی چٹیل میدان میں جمع ہوں گے۔ جب یہ مرحلہ آئے گا تو اس آسمانِ دنیا کو اس کے باسیوں سمیت (اہلِ زمین کے لیے) کھول دیا جائے گا، پس فرشتے زمین کی سطح پر پھیل جائیں گے۔ صرف پہلے آسمان کے فرشتوں کی تعداد تمام زمین والوں یعنی جنوں اور انسانوں کے مجموعے سے دوگنی زیادہ ہوگی۔ جب وہ زمین کی سطح پر بکھر جائیں گے تو اہل زمین ان کی ہیبت سے گھبرا جائیں گے اور پوچھیں گے: ”کیا تم میں ہمارا رب موجود ہے؟“ فرشتے ان کی اس بات سے لرز اٹھیں گے اور کہیں گے: «سُبْحَانَ رَبِّنَا لَيْسَ هُوَ فِينَا ، وَهُوَ آتٍ» ”ہمارا رب پاک ہے، وہ ہم میں نہیں ہے اور وہ جلوہ گر ہونے والا ہے“۔ پھر دوسرے آسمان کے فرشتوں کو لایا جائے گا، صرف دوسرے آسمان کے فرشتوں کی تعداد آسمانِ دنیا کے فرشتوں اور تمام زمین والوں کے مجموعے سے بھی دوگنی زیادہ ہوگی۔ جب وہ زمین والوں پر پھیل جائیں گے تو اہل زمین خوف زدہ ہو کر ان سے بھی وہی سوال کریں گے کہ کیا تم میں ہمارا رب ہے؟ وہ بھی ان کی اس بات پر گھبرا جائیں گے اور وہی جواب دیں گے کہ ہمارا رب پاک ہے، وہ ہم میں نہیں بلکہ وہ تشریف لانے والا ہے۔ پھر تمام آسمان باری باری لپیٹ دیے جائیں گے اور ہر آسمان کے فرشتے اپنے سے نیچے والے تمام آسمانوں کے فرشتوں اور زمین والوں کے مجموعی تعداد کے مقابلے میں دوگنے ہوں گے۔ جب بھی وہ زمین پر اتریں گے تو اہل زمین ان کی ہیبت سے گھبرا کر وہی سوال کریں گے اور وہ بھی ویسا ہی جواب دیں گے۔ پھر ساتویں آسمان کے فرشتے لائے جائیں گے جن کی تعداد چھ آسمانوں کے فرشتوں اور تمام زمین والوں کے مجموعے سے بھی دوگنی ہوگی۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے درمیان (اپنے شایانِ شان) جلوہ گر ہوگا جبکہ تمام امتیں گھٹنوں کے بل صفیں بنا کر بیٹھی ہوں گی۔ پھر ایک پکارنے والا پکارے گا: آج تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کرم و بزرگی والے کون ہیں؟ وہ لوگ کھڑے ہو جائیں جو ہر حال میں اپنے رب کی کثرت سے حمد و ثنا کرنے والے تھے۔ پس وہ جنت کی طرف روانہ ہو جائیں گے۔ پھر وہ منادی دوبارہ پکارے گا: آج تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ صاحبِ کرم کون ہیں؟ وہ لوگ کھڑے ہوں جن کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ﴾ [سورة السجدة: 16] ”ان کے پہلو بستروں سے جدا رہتے ہیں“، وہ کھڑے ہوں گے اور جنت کی طرف روانہ ہو جائیں گے۔ پھر وہ تیسری بار پکارے گا: وہ لوگ کھڑے ہو جائیں جن کے متعلق فرمایا گیا: ﴿رِجَالٌ لا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللهِ﴾ [سورة النور: 37] ”ایسے مرد جنہیں تجارت اور خرید و فروخت اللہ کے ذکر سے غافل نہیں کرتی“، وہ کھڑے ہو کر جنت کی طرف چلے جائیں گے۔ جب ان تینوں (اہلِ جنت) گروہوں کو الگ کر لیا جائے گا تو دوزخ سے ایک گردن نمودار ہوگی جو تمام مخلوقات پر چھا جائے گی، اس کی دیکھنے والی دو آنکھیں اور فصیح زبان ہوگی۔ وہ کہے گی: ”مجھے تین قسم کے لوگوں پر مقرر کیا گیا ہے؛ مجھے ہر اس سرکش کے لیے مامور کیا گیا ہے جو حق کا دشمن تھا“، پھر وہ انہیں صفوں میں سے اس طرح اچک لے گی جیسے پرندہ تل کے بیج چن لیتا ہے، اور انہیں لے جا کر جہنم میں ڈال دے گی۔ پھر وہ دوبارہ نکلے گی اور کہے گی: ”مجھے ان لوگوں پر مقرر کیا گیا ہے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دی“، وہ انہیں بھی صفوں سے پرندے کے دانہ چننے کی طرح اٹھا لے گی اور جہنم کی آگ میں بٹھا دے گی۔ پھر وہ تیسری بار نکلے گی (راوی کہتا ہے میرا خیال ہے کہ) وہ کہے گی: ”مجھے تصویریں بنانے والوں پر مقرر کیا گیا ہے“، پھر وہ انہیں بھی صفوں سے پرندے کے دانہ چننے کی مانند اٹھا لے گی اور جہنم رسید کر دے گی۔ جب ان تینوں گروہوں (جنت والوں) اور ان تینوں گروہوں (جہنم والوں) کا فیصلہ ہو جائے گا، تو پھر اعمال نامے کھولے جائیں گے، ترازو نصب کیے جائیں گے اور تمام مخلوقات کو عمومی حساب و کتاب کے لیے طلب کیا جائے گا“۔
یہ روایت موقوف ہے اور اس کی سند حسن ہے۔