المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ صِفَةِ البعث باب: دوبارہ زندہ کیے جانے کی کیفیت کا بیان۔
حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، ثَنَا دَرَّاجٌ أَبُو السَّمْحِ ، أَنَّ أَبَا الْهَيْثَمِ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : تَأْكُلُ الْأَرْضُ كُلَّ شَيْءٍ مِنَ الْإِنْسَانِ إِلَّا عَجْبَ ذَنَبِهِ ، قِيلَ : وَمِثْلُ مَا هُوَ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مِثْلُ حَبَّةِ الْخَرْدَلِ مِنْهُ يَنْبُتُونَ .
أَخْرَجَهُ ابْنُ حِبَّانَ مِنْ طَرِيقِ ابْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : إِنَّ دَرَّاجًا حَدَّثَهُ بِهِ ، وَسَمِعْنَاهُ بِعُلُوٍّ فِي الْبَعْثِ لِابْنِ أَبِي دَاوُدَ .سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”زمین انسان کے (جسم کے) ہر حصے کو کھا جاتی ہے (یعنی اسے بوسیدہ کر کے فنا کر دیتی ہے) سوائے اس کی ریڑھ کی ہڈی کے بالکل آخری مہرے (عجب الذنب) کے۔“ دریافت کیا گیا کہ یا رسول اللہ! وہ (حجم میں) کیسا ہوتا ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وہ رائی کے دانے کے مانند ہوتا ہے، اور اسی (مہرے) سے (روزِ قیامت) تمام انسانوں کی دوبارہ نشوونما کی جائے گی۔“
اس حدیث کو امام ابن حبان نے ابن وہب کے واسطے سے عمرو بن الحارث سے روایت کیا ہے، انہوں نے کہا کہ دراج نے انہیں یہ حدیث بیان کی، اور ہم نے اسے ابن ابی داؤد کی تصنیف 'کتاب البعث' میں عالی سند کے ساتھ سنا ہے۔