❮
❯
حدیث نمبر: 4555
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِذَا جَمَعَ اللهُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، جَاءَ مُنَادٍ يُنَادِي بِصَوْتٍ يُسْمِعُ جَمِيعَ الْخَلَائِقِ : سَيَعْلَمُ أَهْلُ الْجَمْعِ الْيَوْمَ مَنْ أَوْلَى بِالْكَرَمِ ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُنَادِي : لِيَقُمِ الَّذِينَ كَانَتْ : تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ الْآيَةَ فَيَقُومُونَ وَهُمْ قَلِيلٌ ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُنَادِي : أَيْنَ الَّذِينَ كَانُوا : لا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلا بَيْعٌ عَنْ ذِكْرِ اللهِ الْآيَةَ ، فَيَقُومُونَ وَهُمْ قَلِيلٌ ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيُنَادِي : لِيَقُمِ الَّذِينَ كَانُوا يَحْمَدُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ ، فَيَقُومُونَ وَهُمْ قَلِيلٌ ، ثُمَّ يُحَاسَبُ سَائِرُ النَّاسِ .
ترجمہ

سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ: ”جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اولین و آخرین کو جمع فرمائے گا، تو ایک منادی ایسی آواز کے ساتھ پکارے گا جسے تمام مخلوقات سنیں گی: ”آج اہل محشر کو معلوم ہو جائے گا کہ عزت و تکریم کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے۔“ پھر وہ دوبارہ آ کر پکارے گا: ”وہ لوگ اٹھ کھڑے ہوں جن کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ﴾ [سورة السجدة: 16] یعنی ان کے پہلو (عبادتِ الٰہی کے لیے) بستروں سے الگ رہتے تھے۔“ پس وہ لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے اور وہ تعداد میں تھوڑے ہوں گے۔ پھر وہ منادی دوبارہ آ کر پکارے گا: ”وہ لوگ کہاں ہیں جن کے بارے میں فرمایا گیا: ﴿لَا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَن ذِكْرِ اللَّهِ﴾ [سورة النور: 37] یعنی جنہیں اللہ کے ذکر سے نہ تو تجارت غافل کرتی تھی اور نہ ہی خرید و فروخت۔“ پس وہ لوگ بھی اٹھ کھڑے ہوں گے اور وہ بھی قلیل ہوں گے۔ پھر وہ منادی دوبارہ آ کر پکارے گا: ”وہ لوگ اٹھیں جو خوشحالی اور تنگ دستی، ہر حال میں اللہ کی حمد و ثنا بیان کرتے تھے۔“ پس وہ لوگ بھی کھڑے ہوں گے اور وہ بھی تعداد میں کم ہوں گے۔ پھر اس کے بعد دیگر تمام لوگوں کا حساب و کتاب کیا جائے گا۔“
اس حدیث کو امام بیہقی نے 'شعب الایمان' میں اور امام احمد نے اپنی 'مسند' میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں شہر بن حوشب اگرچہ صدوق ہیں مگر ان کے حافظے پر کلام کیا گیا ہے، تاہم دیگر شواہد کی بنا پر اس حدیث کا متن حسن درجے کا حامل ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4555
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف »
«أخرجه المنتخب من مسند عبد بن حميد برقم: 1581»