❮
❯
حدیث نمبر: 4554
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا ابْنُ مُطِيعٍ ، ثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنِ الْكَوْثَرِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يُحْشَرُ النَّاسُ حُفَاةً ، عُرَاةً ، غُرْلًا ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا : وَالنِّسَاءُ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَقَالَتْ : وَاسَوْأَتَاهُ ، فَقَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَمِنْ أَيِّ شَيْءٍ عَجِبْتِ يَا بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ ؟ قَالَتْ : عَجِبْتُ مِنْ حَدِيثِكَ ، يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ ، قَالَ : فَضَرَبَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَنْكِبِهَا ، وَقَالَ : يَا بِنْتَ أَبِي قُحَافَةَ ، قَدْ شُغِلَ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّظَرِ ، وَتَسْمُو أَبْصَارُهُمْ إِلَى فَوْقِ أَرْبَعِينَ سَنَةً ، لَا يَأْكُلُونَ ، وَلَا يَشْرَبُونَ ، شَاخِصِينَ بِأَبْصَارِهِمْ ، فِيهِمْ مَنْ يَبْلُغُ الْعَرَقُ قَدَمَيْهِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ سَاقَيْهِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ بَطْنَهُ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُلْجِمُهُ الْعَرَقُ مِنْ طُولِ الْوُقُوفِ ، ثُمَّ يَرْحَمُ اللهُ بَعْدَ ذَلِكَ الْعِبَادَ ، فَيَأْمُرُ الْمَلَائِكَةَ الْمُقَرَّبِينَ ، فَيَحْمِلُونَ عَرْشَهُ مِنَ السَّمَاوَاتِ إِلَى أَرْضٍ بَيْضَاءَ ، لَمْ يُسْفَكْ عَلَيْهَا دَمٌ ، وَلَمْ يُعْمَلْ فِيهَا خَطِيئَةٌ ، كَأَنَّهَا الْفِضَّةُ الْبَيْضَاءُ ، ثُمَّ تَقُومُ الْمَلَائِكَةُ حَافِّينَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ ، وَذَلِكَ أَوَّلُ يَوْمٍ نَظَرَتْ فِيهِ عَيْنٌ إِلَى اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ، ثُمَّ يَأْمُرُ مُنَادِيًا ، فَيُنَادِي بِصَوْتٍ يَسْمَعُهُ الثَّقَلَانُ : الْجِنُّ ، وَالْإِنْسُ : أَيْنَ فُلَانُ ابْنُ فُلَانٍ ؟ فَيَشْرَئِبُّ لِذَلِكَ ، وَيَخْرُجُ مِنَ الْمَوْقِفِ ، فَيُعَرِّفُهُ اللهُ تَعَالَى النَّاسَ ، ثُمَّ يُقَالُ : تَخْرُجُ مَعَهُ حَسَنَاتُهُ ، فَيُعَرِّفُ اللهُ تَعَالَى أَهْلَ الْمَوْقِفِ تِلْكَ الْحَسَنَاتِ ، فَإِذَا وَقَفَ بَيْنَ يَدَيْ رَبِّ الْعَالَمِينِ ، قِيلَ : أَيْنَ أَصْحَابُ الْمَظَالِمِ ؟ فَيَجِيئُونَ رَجُلًا رَجُلًا ، فَيُقَالُ : أَظَلَمْتَ فُلَانًا كَذَا وَكَذَا ؟ فَيَقُولُ : نَعَمْ يَا رَبِّ ، فَذَلِكَ الْيَوْمُ الَّذِي تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ أَلْسِنَتُهُمْ وَأَرْجُلُهُمْ وَأَيْدِيهِمْ بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ ، فَتُؤْخَذُ حَسَنَاتُهُ ، فَتُدْفَعُ إِلَى مَنْ ظَلَمَهُ يَوْمَ لَا دِرْهَمٌ وَلَا دِينَارٌ ، إِلَّا أَخْذٌ مِنَ الْحَسَنَاتِ ، وَرَدٌّ مِنَ السَّيِّئَاتِ ، فَلَا يَزَالُ أَهْلُ الْمَظَالِمِ يَسْتَوْفُونَ مِنْ حَسَنَاتِهِ حَتَّى لَا يَبْقَى لَهُ حَسَنَةٌ ، ثُمَّ يَقُومُ مَنْ بَقِيَ مِمَّنْ لَمْ يَأْخُذْ شَيْئًا ، فَيَقُولُونَ : مَا بَالُ غَيْرِنَا ، اسْتَوْفَى وَبَقِينَا ؟ فَيُقَالُ لَهُمْ : لَا تَعْجَلُوا ، يُؤْخَذُ مِنْ سَيِّئَاتِهِمْ ، فَتُرَدُّ عَلَيْهِ ، حَتَّى لَا يَبْقَى أَحَدٌ ظُلِمَ بِمَظْلَمَةٍ ، فَيُعَرِّفُ اللهُ تَعَالَى أَهْلَ الْمَوْقِفِ أَجْمَعِينَ ذَلِكَ ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْ حَسَنَاتِهِ ، قِيلَ : ارْجِعْ إِلَى أُمِّكَ الْهَاوِيَةِ ، لَا ظُلْمَ الْيَوْمَ ، إِنَّ اللهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ ، فَلَا بَقِيَ يَوْمَئِذٍ مَلَكٌ وَلَا نَبِيُّ مُرْسَلٌ وَلَا صِدِّيقٌ وَلَا شَهِيدٌ وَلَا بَشَرٌ ، إِلَّا ظَنَّ بِمَا رَأَى مِنْ شِدَّةِ الْعَذَابِ أَنَّهُ لَا يَنْجُو ، إِلَّا مَنْ عَصَمَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت کے دن لوگوں کو ننگے پاؤں، برہنہ بدن اور غیر مختون (بغیر ختنے کے) جمع کیا جائے گا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، کیا عورتیں بھی (اسی طرح مردوں کے ساتھ) ہوں گی؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے عرض کیا: ”ہائے افسوس! یہ تو بڑی شرم کی بات ہے (کہ سب ایک دوسرے کو برہنہ دیکھیں گے)۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابوبکر کی بیٹی! تمہیں کس بات پر تعجب ہوا؟“ انہوں نے عرض کیا: ”مجھے آپ کی اس بات پر حیرت ہوئی کہ لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھیں گے (اور حیا کا کیا بنے گا)؟“ راوی بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے کندھے پر اپنا دستِ مبارک مارا اور فرمایا: ”اے ابوقحافہ کی بیٹی! اس دن لوگ ایک دوسرے کو دیکھنے سے بالکل بے نیاز اور اپنی ہولناکیوں میں مشغول ہوں گے، ان کی آنکھیں چالیس سال تک اوپر کی جانب اٹھی رہیں گی، وہ نہ کچھ کھائیں گے اور نہ پیئیں گے بلکہ ٹکٹکی باندھے حیرت و خوف سے دیکھ رہے ہوں گے، ان میں سے بعض کا پسینہ ان کے قدموں تک ہوگا، بعض کا پنڈلیوں تک، بعض کا پیٹ تک اور طویل قیام کی مشقت کی وجہ سے بعض کو پسینہ لگام کی طرح جکڑ لے گا، پھر اس ہولناکی کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا اور مقرب فرشتوں کو حکم دے گا تو وہ اس کے عرش کو آسمانوں سے اٹھا کر ایک ایسی سفید زمین کی طرف لائیں گے جہاں کبھی خون نہیں بہایا گیا اور نہ ہی اس پر کبھی کوئی گناہ کیا گیا ہے، وہ زمین ایسی (چمکدار اور صاف) ہوگی جیسے چاندی ہوتی ہے، پھر فرشتے عرش کے گرد گھیرا ڈال کر کھڑے ہو جائیں گے، اور یہ وہ پہلا دن ہوگا جس میں کوئی آنکھ اللہ عزوجل کے (جلال) کا مشاہدہ کرے گی، پھر اللہ تعالیٰ ایک منادی کو حکم دے گا تو وہ ایسی آواز میں پکارے گا جسے جن و انس سب سنیں گے: 'فلاں بن فلاں کہاں ہے؟' وہ شخص پکار سن کر گردن اٹھائے گا اور مجمع سے نکل کر آئے گا، پھر اللہ تعالیٰ اسے تمام لوگوں کے سامنے نمایاں کر دے گا، پھر کہا جائے گا: 'اس کی نیکیاں اس کے ساتھ آ رہی ہیں'، پس اللہ تعالیٰ اہل محشر کو اس کی وہ نیکیاں دکھائے گا، پھر جب وہ رب العالمین کے سامنے کھڑا ہوگا تو پکارا جائے گا: 'مظلومین اور حقوق والے کہاں ہیں؟' وہ ایک ایک کر کے سامنے آئیں گے، اس شخص سے پوچھا جائے گا: 'کیا تو نے فلاں کے ساتھ فلاں فلاں زیادتی کی تھی؟' وہ عرض کرے گا: 'جی ہاں اے میرے رب!' تو یہ وہ دن ہوگا جس کی بابت فرمایا گیا: ﴿يَوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ أَلْسِنَتُهُمْ وَأَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ ”جس دن ان کے خلاف ان کی زبانیں، ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے ان اعمال کی گواہی دیں گے جو وہ (دنیا میں) کرتے رہے تھے“ [سورة النور: 24]، چنانچہ اس کی نیکیاں لے کر اس شخص کو دے دی جائیں گی جس پر اس نے ظلم کیا ہوگا، یہ وہ دن ہوگا جب درہم و دینار کام نہیں آئیں گے بلکہ صرف نیکیاں لی جائیں گی اور گناہ لادے جائیں گے، حقوق والے مسلسل اس کی نیکیاں وصول کرتے رہیں گے یہاں تک کہ اس کے پاس کوئی نیکی باقی نہیں رہے گی، پھر وہ لوگ کھڑے ہوں گے جن کا حق باقی ہوگا مگر نیکی ختم ہو چکی ہوگی، وہ عرض کریں گے: 'ہمارا کیا بنے گا کہ دوسرے تو اپنا حق لے گئے اور ہم رہ گئے؟' ان سے کہا جائے گا: 'جلدی نہ کرو'، چنانچہ ان کے گناہ اس ظالم کے کھاتے میں ڈال دیے جائیں گے یہاں تک کہ کوئی ایک بھی مظلوم ایسا باقی نہیں رہے گا جس کا حق باقی ہو، اللہ تعالیٰ تمام اہل محشر کو اس عدل سے آگاہ فرما دے گا، جب اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو حکم ہوگا: 'اسے اس کے اصلی ٹھکانے ہاویہ (جہنم) کی طرف لے جاؤ' ﴿لَا ظُلْمَ الْيَوْمَ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ﴾ ”آج کسی پر کوئی ظلم نہیں ہوگا، یقیناً اللہ بہت جلد حساب چکانے والا ہے“ [سورة غافر: 17]، اس دن عذاب کی شدت اور حساب کی سختی دیکھ کر کوئی مقرب فرشتہ، کوئی نبی مرسل، کوئی صدیق اور کوئی شہید ایسا نہیں ہوگا جسے یہ گمان نہ ہو کہ وہ آج ہلاکت سے نہیں بچ سکے گا، سوائے اس کے جسے اللہ عزوجل (اپنے فضل سے) محفوظ فرما لے۔“
اس حدیث کو امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند (حدیث: 4554) میں روایت کیا ہے، تاہم اس کی سند میں "کوثر بن حکیم" نامی راوی ہے جو کہ ائمہ حدیث کے نزدیک "متروک" اور انتہائی ضعیف ہے، جس کی وجہ سے یہ روایت علمی و فنی اعتبار سے سخت ضعیف ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4554
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»