المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ صِفَةِ البعث باب: دوبارہ زندہ کیے جانے کی کیفیت کا بیان۔
وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ ، ثَنَا أَبِي ، قَالَ : إِنَّ أَبَا هَارُونَ الْغِطْرِيفَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ أَبَا الشَّعْثَاءِ حَدَّثَهُ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ : أَنَّ الرُّوحَ الْأَمِينَ عَلَيْهِ السَّلَامُ حَدَّثَهُ : أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَضَى لَيُؤْتَى بِعَمَلِ الْعَبْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَسَنَاتِهِ وَسَيِّئَاتِهِ ، فَيَقُصُّ بَعْضُهَا بِبَعْضٍ ، فَإِذَا بَقِيَتْ لَهُ حَسَنَةٌ وَاحِدَةٌ ، وَسَّعَ اللهُ لَهُ فِي الْجَنَّةِ مَا شَاءَ .
قَالَ إِبْرَاهِيمُ : قَالَ أَبِي : فَقُلْتُ لِأَبِي سَلَمَةَ يَزْدَادُ ، فَإِنْ ذَهَبَتِ الْحَسَنَةُ فَلَمْ يَبْقَ شَيْءٌ ؟ فَقَالَ : أُولَئِكَ الَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَنَتَجَاوَزُ عَنْ سَيِّئَاتِهِمْ الْآيَةَ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک روح الامین (حضرت جبرائیل) علیہ السلام نے مجھ سے بیان کیا کہ اللہ عزوجل نے یہ اٹل فیصلہ فرما رکھا ہے کہ قیامت کے دن بندے کے اعمال پیش کیے جائیں گے جن میں اس کی نیکیاں اور برائیاں سب شامل ہوں گی، پھر ان کا ایک دوسرے کے ساتھ موازنہ کر کے تصفیہ کیا جائے گا، چنانچہ اگر (حساب کتاب کے بعد) بندے کے پاس صرف ایک نیکی بھی بچ گئی تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں جس قدر چاہے گا وسعت و کشادگی عطا فرما دے گا۔“
ابراہیم کہتے ہیں کہ میرے والد (حکم بن ابان) نے بیان کیا کہ میں نے ابوسلمہ یزداد سے دریافت کیا کہ اگر وہ ایک نیکی بھی ختم ہو جائے اور حساب میں کچھ باقی نہ رہے تو (پھر کیا معاملہ ہوگا)؟ انہوں نے جواب دیا کہ (ایسے ہی لوگوں کے حق میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے): ﴿أُولَئِكَ الَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَنَتَجَاوَزُ عَنْ سَيِّئَاتِهِمْ﴾ ”یہی وہ لوگ ہیں جن کے بہترین اعمال کو ہم قبول فرماتے ہیں اور ان کی برائیوں سے درگزر کر دیتے ہیں۔“ [سورة الأحقاف: 16]۔