المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ صِفَةِ البعث باب: دوبارہ زندہ کیے جانے کی کیفیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4550
وَقَالَ الْبَزَّارُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ الطُّوسِيُّ ، ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ عِيسَى ، عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ الْعَرَقَ لَيَلْزَمُ الْمَرْءَ فِي الْمَوْقِفِ ، حَتَّى يَقُولَ : يَا رَبِّ ! إِرْسَالُكَ بِي إِلَى النَّارِ أَهْوَنُ عَلَيَّ مِمَّا أَجِدُ ، وَهُوَ يَعْلَمُ مَا فِيهَا مِنْ شِدَّةِ الْعَذَابِ .
وَقَالَ : لَا نَعْلَمُهُ يُرْوَى إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ .ترجمہ
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے دن میدانِ حشر میں پسینہ انسان کو اس طرح اپنے شکنجے میں جکڑ لے گا کہ وہ (سخت گھبراہٹ کے عالم میں) پکار اٹھے گا: «يَا رَبِّ ! إِرْسَالُكَ بِي إِلَى النَّارِ أَهْوَنُ عَلَيَّ مِمَّا أَجِدُ» ”اے میرے رب! تیرا مجھے آگ کی طرف روانہ کر دینا اس اذیت سے کہیں زیادہ ہلکا ہے جو میں اس وقت جھیل رہا ہوں“، حالانکہ وہ بخوبی جانتا ہوگا کہ اس جہنم میں کتنا ہولناک اور شدید عذاب ہے۔“
امام بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہمارے علم کے مطابق یہ حدیث صرف اسی سند کے ساتھ مروی ہے۔