المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ صِفَةِ البعث باب: دوبارہ زندہ کیے جانے کی کیفیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4549
حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُرَيْجٍ ، ثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عِيسَى ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ : إِنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : الْعَارُ وَالتَّخْزِيَةُ تَبْلُغُ مِنَ ابْنِ آدَمَ فِي الْقِيَامَةِ بَيْنَ يَدَيِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا يَتَمَنَّى الْمَرْءُ أَنْ يُؤْمَرَ بِهِ إِلَى النَّارِ .ترجمہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”قیامت کے روز اللہ عزوجل کے حضور پیشی کے وقت ابنِ آدم کو اس قدر شدید عار، شرمندگی اور ذلت و رسوائی لاحق ہوگی کہ اس کرب اور رسوائی سے بچنے کے لیے آدمی یہ تمنا کرے گا کہ اسے جہنم کی طرف لے جانے کا حکم دے دیا جائے۔“
اس حدیث کی تخریج امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند (بغیۃ الباحث: 1045) میں کی ہے، اس کی سند میں موجود راوی فضل بن عیسیٰ بن ابان رقاشی ضعیف ہے، جس کی بنا پر یہ روایت سنداً کمزور ہے۔