المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ صِفَةِ البعث باب: دوبارہ زندہ کیے جانے کی کیفیت کا بیان۔
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، ثَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّ الْكَافِرَ لَيُحَاسَبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُلْجِمَهُ الْعَرَقُ ، حَتَّى إِنَّهُ لَيَقُولُ : أَرِحْنِي وَلَوْ إِلَى النَّارِ .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک قیامت کے دن کافر کا اس قدر سخت اور طویل محاسبہ کیا جائے گا کہ اسے پسینہ لگام کی طرح جکڑ لے گا (یعنی اس کے منہ تک پہنچ کر اسے مغلوب کر لے گا)، یہاں تک کہ وہ (اس حالت کی ہولناکی اور شدتِ کرب سے بے بس ہو کر) التجا کرے گا: «أَرِحْنِي وَلَوْ إِلَى النَّارِ» ”مجھے (اس کیفیت سے) راحت عطا فرما دیجیے، خواہ مجھے آگ ہی کی طرف کیوں نہ بھیج دیا جائے۔“
اس حدیث کی سند حسن ہے، اسے امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں اور امام حاکم نے المستدرک میں روایت کیا ہے، اس کے راوی محمد بن اسحاق بن یسار صدوق ہیں اور دیگر شواہد کی بنا پر یہ روایت صحیح یا حسن کے درجے پر فائز ہے۔