المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ صِفَةِ البعث باب: دوبارہ زندہ کیے جانے کی کیفیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4547
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ ، ثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِنَّ الْكَافِرَ لَيُلْجِمُهُ الْعَرَقُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيَقُولُ : أَرِحْنِي وَلَوْ إِلَى النَّارِ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک قیامت کے دن کافر کو پسینہ اس طرح لگام دے دے گا (یعنی اس کے منہ تک پہنچ کر اسے بے بس کر دے گا) کہ وہ (شدید کرب کی وجہ سے) کہے گا: «أَرِحْنِي وَلَوْ إِلَى النَّارِ» ”مجھے (اس کیفیت سے) راحت دے دے، خواہ مجھے آگ ہی کی طرف کیوں نہ بھیج دیا جائے۔““
اس حدیث کی تخریج امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں کی ہے، اس کی سند میں شریک بن عبداللہ القاضی اپنے حافظے کی بنا پر محلِ نظر ہیں، تاہم دیگر صحیح روایات اس مفہوم کی تائید کرتی ہیں۔