المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ صِفَةِ البعث باب: دوبارہ زندہ کیے جانے کی کیفیت کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنِ الْهَجَرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَدْعُو الْعَبْدَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَيُذَكِّرُهُ آلَاءَهُ وَنِعَمَهُ ، حَتَّى يَقُولَ فِيمَا يَقُولُ : سَأَلْتَنِي يَوْمَ كَذَا وَكَذَا ، أَنْ أُزَوِّجَكَ فُلَانَةَ ، يُسَمِّيهَا ، فَتَزَوَّجْتَهَا .سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ عزوجل قیامت کے دن اپنے بندے کو (اپنے حضور) طلب فرمائے گا، پھر اسے اپنے احسانات اور اپنی نعمتیں یاد دلائے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ بندے سے جو کلام فرمائے گا اس میں یہ بھی ارشاد فرمائے گا کہ: تو نے مجھ سے فلاں فلاں دن یہ التجا کی تھی کہ میں تیرا نکاح فلاں خاتون سے کر دوں (اللہ تعالیٰ اس کا نام صراحت سے ذکر فرمائے گا)، چنانچہ تو نے اس سے نکاح کر لیا۔“
اس حدیث کی تخریج امام مسدد نے کی ہے اور یہ المطالب العالیہ کی حدیث نمبر 4546 ہے، اس کی سند میں ابراہیم بن مسلم الہجری راوی ضعیف ہے، تاہم اس کے شواہد دیگر کتبِ حدیث میں موجود ہیں۔