المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ صِفَةِ البعث باب: دوبارہ زندہ کیے جانے کی کیفیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4545
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، ثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الصِّرَاطُ كَحَدِّ السَّيْفِ ، دَحْضٌ مَزِلَّةٌ ، ذَا حَسَكٍ وَكَلَالِيبَ .ترجمہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”پل صراط (اپنی تیزی اور باریکی میں) تلوار کی دھار کی مانند ہے، یہ ایسی جگہ ہے جہاں قدم لڑکھڑا جاتے ہیں اور سخت پھسلن ہے، نیز یہ کانٹوں اور (گوشت اچک لینے والے) لوہے کے کُنڈوں والا ہے۔“
اس حدیث کو امام احمد بن منیع نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں ابومعشر نجیح بن عبدالرحمن السندی ضعیف راوی ہیں، البتہ صحیحین (بخاری و مسلم) میں موجود دیگر صحیح احادیث اس کے معنی و مفہوم کی مکمل تائید کرتی ہیں۔