المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ صِفَةِ البعث باب: دوبارہ زندہ کیے جانے کی کیفیت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، ثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، ثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، ثَنَا أَبِي ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُمَيْرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : جَلَسْنَا إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ ، وَأَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : يَبْلُغُ الْعَرَقُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ النَّاسِ ، قَالَ أَحَدُهُمَا : إِلَى شَحْمَةِ أُذُنِهِ ، وَقَالَ الْآخَرُ : إِلَى أَنْ يُلْجِمَهُ الْعَرَقُ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : هَكَذَا . وَوَصَفَ أَبُو عَاصِمٍ ، فَأَمَرَّ إِصْبَعَهُ مِنْ شَحْمَةِ أُذُنِهِ إِلَى فِيهِ ، هَذَا وَذَاكَ سَوِيٌّ .
رَوَاهُ الْحَاكِمُ مِنْ طَرِيقِ أَبِي عَاصِمٍ ، وَقَالَ فِيهِ : فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : بِأُصْبُعِهِ تَحْتَ شَحْمَةِ أُذُنِهِ ، وَقَالَ : صَحِيحُ الْإِسْنَادِ .سعید بن عمیر انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہم کے پہلو میں بیٹھے ہوئے تھے، پس ان دونوں میں سے ایک نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت کے دن لوگوں کو اس کثرت سے پسینہ آئے گا کہ وہ ان کے جسموں پر (بلندی تک) پہنچ جائے گا“، ان میں سے ایک صاحب نے کہا: ”کان کی لو تک“، جبکہ دوسرے نے کہا: ”یہاں تک کہ پسینہ انہیں لگام کی طرح (منہ تک) آ جائے گا“، اس پر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے (تصدیق کرتے ہوئے) فرمایا: ”اسی طرح ہے“، اور راویِ حدیث ابو عاصم نے اس کی کیفیت بیان کرتے ہوئے اپنی انگلی کان کی لو سے لے کر اپنے منہ تک پھیری اور کہا کہ یہ اور وہ (دونوں باتیں) برابر ہیں۔
اسے امام حاکم نے ابو عاصم کے طریق سے روایت کیا ہے اور اس میں یہ الفاظ ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی انگلی سے کان کی لو کے نیچے اشارہ کیا، نیز امام حاکم نے اسے صحیح الاسناد قرار دیا ہے۔