❮
❯
حدیث نمبر: 4543
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ أَيْضًا : حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَعْبٍ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي لَأَعْلَمُ آخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ ، رَجُلٌ كَانَ يَسْأَلُ اللهَ تَعَالَى أَنْ يُزَحْزِحَهُ عَنِ النَّارِ ، حَتَّى إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ ، كَانَ بَيْنَ ذَلِكَ ، فَقَالَ : أَيْ رَبِّ ! أَدْنِنِي مِنْ بَابِ الْجَنَّةِ ، فَقِيلَ : يَا ابْنَ آدَمَ ، أَلَمْ تَسْأَلْ أَنْ تُزَحْزَحَ عَنِ النَّارِ ؟ فَقَالَ : يَا رَبِّ وَمَنْ مِثْلُكَ ؟ أَدْنِنِي مِنْ بَابِ الْجَنَّةِ ، فَيُدْنَى مِنْهَا ، فَيَنْظُرُ إِلَى شَجَرَةٍ عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ ، فَقَالَ : يَا رَبِّ أَدْنِنِي مِنْهَا أَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا ، وَآكُلُ مِنْ ثَمَرِهَا ، فَقَالَ - جَلَّ وَعَلَا : يَا ابْنَ آدَمَ ! أَلَمْ تَقُلْ ؟ قَالَ : يَا رَبِّ ! وَمَنْ مِثْلُكَ ، فَأَدْنِنِي مِنْهَا ، فَرَأَى أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ : يَا رَبِّ ، أَدْنِنِي مِنْهَا ، فَقَالَ جَلَّ جَلَالُهُ : يَا ابْنَ آدَمَ ، أَلَمْ تَقُلْ ؟ قَالَ : يَا رَبِّ وَمَنْ مِثْلُكَ ؟ فَأَدْنِنِي ، فَقِيلَ لَهُ : اعْدُ ، فَلَكَ مَا بَلَغَتْهُ قَدَمَاكَ وَرَأَتْهُ عَيْنَاكَ ، قَالَ : فَيَعْدُو ، حَتَّى إِذَا بَلَّحَ - يَعْنِي أَعْيَا - قَالَ : يَا رَبِّ هَذَا لِي وَهَذَا ؟ فَيَقُولُ : لَكَ مِثْلُهُ وَأَضْعَافُهُ ، فَيَقُولُ : قَدْ رَضِيَ عَنِّي رَبِّي ، فَلَوْ أَذِنَ لِي فِي كِسْوَةِ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَطَعَامِهِمْ لَأَوْسَعْتُهُمْ .
ترجمہ

سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں اس شخص کو یقیناً جانتا ہوں جو اہل جنت میں سب سے آخر میں جنت میں داخل ہوگا، یہ وہ شخص ہوگا جو اللہ تعالیٰ سے یہ التجا کرتا تھا کہ اسے آگ سے دور کر دیا جائے، یہاں تک کہ جب جنتی جنت میں اور دوزخی دوزخ میں داخل ہو جائیں گے تو یہ شخص ان کے درمیان (کسی مقام پر) ہوگا، پس وہ عرض کرے گا: «أَيْ رَبِّ ! أَدْنِنِي مِنْ بَابِ الْجَنَّةِ» ”اے میرے رب! مجھے جنت کے دروازے کے قریب کر دے“، تو اس سے کہا جائے گا: اے ابن آدم! کیا تو نے یہ سوال نہیں کیا تھا کہ تجھے آگ سے دور کر دیا جائے (اور تو اسی پر اکتفا کرے گا)؟ وہ عرض کرے گا: ”اے میرے رب! اور آپ جیسی کریمی و وسعت والا کون ہو سکتا ہے؟ مجھے جنت کے دروازے کے قریب کر دے“، چنانچہ اسے اس کے قریب کر دیا جائے گا، پھر وہ جنت کے دروازے کے پاس ایک درخت دیکھے گا تو عرض کرے گا: «يَا رَبِّ أَدْنِنِي مِنْهَا أَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا ، وَآكُلُ مِنْ ثَمَرِهَا» ”اے میرے رب! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کے سائے تلے سایہ حاصل کروں اور اس کا پھل کھاؤں“، تب اللہ جل و علیٰ فرمائے گا: اے ابن آدم! کیا تو نے (پہلے یہ عہد) نہیں کیا تھا؟ وہ عرض کرے گا: ”اے میرے رب! آپ جیسا شفیق کون ہے، مجھے اس کے قریب کر دے“، پھر وہ اس سے بھی بہتر نعمت دیکھے گا تو (دوبارہ) عرض کرے گا: ”اے میرے رب! مجھے اس کے قریب کر دے“، اللہ جل جلالہ فرمائے گا: اے ابن آدم! کیا تو نے عہد نہیں کیا تھا کہ مزید سوال نہیں کرے گا؟ وہ کہے گا: ”اے میرے رب! آپ جیسا کریم کون ہے؟ پس مجھے (اس کے) قریب فرما دیجیے“، چنانچہ اس سے کہا جائے گا: ”دوڑ لگاؤ! پس تمہارے لیے وہ سب کچھ ہے جہاں تک تمہارے قدم پہنچیں اور جہاں تک تمہاری نگاہیں دیکھ سکیں“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”پس وہ دوڑے گا یہاں تک کہ جب وہ تھک کر ہمت ہار جائے گا تو عرض کرے گا: اے میرے رب! کیا یہ سب میرے لیے ہے اور یہ بھی؟“ تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”تیرے لیے یہ سب بھی ہے اور اس جیسی کئی گنا مزید نعمتیں بھی ہیں“، تب وہ کہے گا: ”یقیناً میرا رب مجھ سے راضی ہو گیا ہے، اب اگر مجھے تمام اہل جنت کے لباس اور ان کے طعام کی ذمہ داری دی جائے تو میں ان سب کی کفالت کے لیے کافی ہو جاؤں گا (یعنی اسے اس قدر کثرت سے عطا کیا جائے گا)“۔
اس حدیث کو امام ابوبکر بن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے، اس کی سند میں موسیٰ بن عبیدہ ضعیف راوی ہے، تاہم اس حدیث کا بنیادی مفہوم اور آخری جنتی کا قصہ صحیحین (بخاری و مسلم) کی مستند روایات میں مختلف الفاظ کے ساتھ ثابت ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4543
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف »
«أخرجه مصنف ابن أبي شيبة برقم: 59، وأخرجه مسند البزار برقم: 2760، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 18671، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 7882»