المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ صِفَةِ البعث باب: دوبارہ زندہ کیے جانے کی کیفیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4541
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الصَّهْبَاءِ ، ثَنَا أَبُو غَالِبٍ قَالَ : سَمِعْتُ الْعَلَاءَ بْنَ زِيَادٍ قَالَ لِأَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : كَيْفَ يُبْعَثُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : يُبْعَثُونَ وَالسَّمَاءُ تَطِشُّ عَلَيْهِمْ .ترجمہ
ابویعلیٰ نے روایت کیا کہ ہم سے محمد بن ابوبکر نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے عبدالرحمن بن ابی الصہباء نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں ابوغالب نے خبر دی کہ میں نے علاء بن زیاد کو سنا، انہوں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ ”قیامت کے دن لوگوں کو کس طرح دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جائے گا؟“ تو انہوں نے جواباً ارشاد فرمایا کہ ”لوگوں کو اس کیفیت میں اٹھایا جائے گا کہ آسمان ان پر ہلکی پھوار اور بونداباندی برسا رہا ہوگا۔“
اسے امام ابویعلیٰ موصلی نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔