المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ صِفَةِ البعث باب: دوبارہ زندہ کیے جانے کی کیفیت کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، ثَنَا قَيْسُ بْنُ السَّكَنِ ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللهِ ، قَالَ : إِنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَدَّثَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ هَذَا الْحَدِيثَ ، فَقَالَ : إِذَا حُشِرَ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، قَامُوا أَرْبَعِينَ ، عَلَى رُؤُوسِهِمُ الشَّمْسُ ، شَاخِصَةً أَبْصَارُهُمْ إِلَى السَّمَاءِ ، يَنْتَظِرُونَ الْفَصْلَ كُلُّ بَرٍّ مِنْهُمْ وَفَاجِرٍ ، لَا يَتَكَلَّمُ مِنْهُمْ بَشَرٌ ، ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ : أَلَيْسَ عَدْلًا مِنْ رَبِّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَصَوَّرَكُمْ ، وَرَزَقَكُمْ ، ثُمَّ عَبَدْتُمْ غَيْرَهُ ، أَنْ يُوَلِّيَ كُلَّ قَوْمٍ مَا تَوَلَّوْا ؟ فَيَقُولُونَ : بَلَى ، فَيُنَادِي بِذَلِكَ مَلَكٌ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ يَمْثُلُ لِكُلِّ قَوْمٍ آلِهَتُهُمُ الَّتِي كَانُوا يَعْبُدُونَهَا ، فَيَتَّبِعُونَهَا ، حَتَّى تُورِدَهُمُ النَّارَ ، فَيَبْقَى الْمُؤْمِنُونَ وَالْمُنَافِقُونَ ، فَيَخِرُّ الْمُؤْمِنُونَ سُجَّدًا ، وَتُدْمَجُ أَصْلَابُ الْمُنَافِقِينَ ، فَتَكُونُ عَظْمًا وَاحِدًا ، كَأَنَّهَا صَيَاصِي الْبَقَرِ ، وَيَخِرُّونَ عَلَى أَقْفِيَتِهِمْ ، فَيَقُولُ اللهُ تَعَالَى لَهُمُ : ارْفَعُوا رُؤُوسَكُمْ إِلَى نُورِكُمْ بِقَدْرِ أَعْمَالِكُمْ ، فَيَرْفَعُ الرَّجُلُ رَأْسَهُ ، وَنُورُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ الْجَبَلِ ، وَيَرْفَعُ الرَّجُلُ رَأْسَهُ وَنُورُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ الْقَصْرِ ، وَيَرْفَعُ الرَّجُلُ رَأْسَهُ وَنُورُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ الْبَيْتِ ، حَتَّى ذَكَرَ مِثْلَ الشَّجَرَةِ ، فَيَمْضُونَ عَلَى الصِّرَاطِ كَالْبَرْقِ وَكَالرِّيحِ ، وَكَحُضْرِ الْفَرَسِ ، وَكَاشْتِدَادِ الرَّجُلِ ، حَتَّى يَبْقَى آخِرُ النَّاسِ نُورُهُ عَلَى إِبْهَامِ رِجْلِهِ مِثْلُ السِّرَاجِ ، فَأَحْيَانًا يُضِيءَ لَهُ ، وَأَحْيَانًا يَخْفَى عَلَيْهِ ، فَتَشَعَّبُ مِنْهُ النَّارُ ، فَلَا يَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى يَخْرُجَ ، فَيَقُولُ : مَا يَدْرِي مَا نَجَا مِنْهُ غَيْرِي ، وَلَا أَصَابَ أَحَدٌ مِثْلَ مَا أَصَبْتُ ، إِنَّمَا أَصَابَنِي حَرُّهَا وَنَجَوْتُ مِنْهَا ، قَالَ : فَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ فِي الْجَنَّةِ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، أَدْخِلْنِي هَذَا ، فَيَقُولُ : عَبْدِي لَعَلِّي إِنْ أَدْخَلْتُكَ تَسْأَلْنِي غَيْرَهُ ، قَالَ : فَيُدْخِلُهُ ، فَبَيْنَمَا هُوَ يَعْجَبُ بِمَا هُوَ فِيهِ ، إِذْ فُتِحَ لَهُ بَابٌ آخَرُ ، فَيُسْتَحْقَرُ فِي عَيْنِهِ الَّذِي هُوَ فِيهِ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، أَدْخِلْنِي هَذَا ، فَيَقُولُ : أَوَلَمْ تَزْعُمْ أَنَّكَ لَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهُ ؟ فَيَقُولُ : وَعِزَّتِكَ وَجَلَالِكَ ، لَئِنْ أَدْخَلْتَنِيهِ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ ، قَالَ : فَيُدْخِلُهُ حَتَّى يُدْخِلَهُ أَرْبَعَةَ أَبْوَابٍ ، كُلُّهَا يَسْأَلُهَا ، ثُمَّ يَسْتَقْبِلُهُ رَجُلٌ مِثْلُ النُّورِ ، فَإِذَا رَآهُ هَوَى ، فَسَجَدَ لَهُ ، فَيَقُولُ : مَا شَأْنُكَ ؟ فَيَقُولُ : أَلَسْتَ بِرَبِّي ؟ فَيَقُولُ : إِنَّمَا أَنَا قَهْرَمَانٌ ، لَكَ فِي الْجَنَّةِ أَلْفُ قَهْرَمَانٍ عَلَى أَلْفِ قَصْرٍ ، بَيْنَ كُلِّ قَصْرَيْنِ مَسِيرَةُ أَلْفِ سَنَةٍ ، يُرَى أَقْصَاهَا كَمَا يُرَى أَدْنَاهَا ، ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنْ زَبَرْجَدَةٍ خَضْرَاءَ ، فِيهَا سَبْعُونَ بَابًا ، فِي كُلِّ بَابٍ مِنْهَا أَزْوَاجٌ وَسُرُرٌ وَمَنَاصِفُ ، فَيَقْعُدُ مَعَ زَوْجَتِهِ ، فَتُنَاوِلُهُ الْكَأْسَ ، فَتَقُولُ : لَأَنْتَ مُنْذُ نَاوَلْتُكَ الْكَأْسَ أَحْسَنُ مِنْكَ قَبْلَ ذَلِكَ بِسَبْعِينَ ضِعْفًا ، عَلَيْهَا سَبْعُونَ حُلَّةً ، أَلْوَانُهَا شَتَّى ، يُرَى مُخُّ سَاقِهَا ، وَيَلْبَسُ الرَّجُلُ ثِيَابَهُ عَلَى كَبِدِهَا ، وَكَبِدُهَا مِرْآتُهُ .
هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ مُتَّصِلٌ رِجَالُهُ ثِقَاتٌ .سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث بیان کی کہ: ”جب قیامت کے دن تمام لوگوں کو میدانِ حشر میں جمع کیا جائے گا، تو وہ چالیس (سال یا ایک طویل مدت) تک کھڑے رہیں گے، سورج ان کے سروں پر بالکل قریب (تپ رہا) ہوگا، ان کی آنکھیں ہیبت سے آسمان کی طرف ٹکٹکی باندھے لگی ہوں گی، وہ سب کے سب فیصلے کے منتظر ہوں گے خواہ وہ نیک ہوں یا بد، ان میں سے کوئی بشر کلام نہیں کرے گا، پھر ایک پکارنے والا پکارے گا: کیا تمہارے اس رب کا یہ کرنا عین انصاف نہیں ہے جس نے تمہیں پیدا کیا، تمہاری صورت گری کی اور تمہیں رزق عطا کیا، پھر تم نے اس کے علاوہ دوسروں کی بندگی کی، کہ وہ ہر گروہ کو اسی کے سپرد کر دے جس کے پیچھے وہ دنیا میں چلے تھے؟ وہ جواباً کہیں گے: کیوں نہیں (یقیناً یہی انصاف ہے)۔ ایک فرشتہ تین مرتبہ یہی پکار لگائے گا، پھر ہر قوم کے لیے ان کے وہ خود ساختہ معبود سامنے لائے جائیں گے جن کی وہ عبادت کرتے تھے، پس وہ ان کے پیچھے چل پڑیں گے یہاں تک کہ وہ معبود انہیں آگ میں لے جائیں گے، پھر صرف سچے مومن اور منافق باقی رہ جائیں گے، پس مومن اللہ کے حضور سجدے میں گر جائیں گے جبکہ منافقین کی پیٹھیں (جڑ کر) ایسی سخت ہو جائیں گی کہ وہ مڑ نہ سکیں گی، وہ ایک ہڈی کی طرح ہو جائیں گی جیسے گائے کے سینگ ہوں، اور وہ (سجدہ کرنے کی کوشش میں) اپنی گدیوں کے بل پیچھے گر پڑیں گے، پھر اللہ تعالیٰ ان مومنین سے فرمائے گا: اپنے سروں کو اپنے اعمال کے بقدر ملنے والے نور کی طرف اٹھاؤ، چنانچہ کوئی آدمی اپنا سر اٹھائے گا تو اس کا نور اس کے سامنے پہاڑ کی مانند (عظیم) ہوگا، کوئی سر اٹھائے گا تو اس کا نور محل کی مانند ہوگا، کوئی اپنا سر اٹھائے گا تو اس کا نور گھر کی مانند ہوگا، حتیٰ کہ آپ ﷺ نے درخت جیسی مثال تک ذکر فرمائی، پھر وہ پل صراط سے بجلی کی کڑک، ہوا کی تیزی، اصیل گھوڑے کی رفتار اور دوڑتے ہوئے طاقتور آدمی کی طرح گزریں گے، حتیٰ کہ وہ آخری شخص باقی رہ جائے گا جس کا نور اس کے پاؤں کے انگوٹھے پر ایک چراغ کی مانند ہوگا، کبھی وہ اس کے لیے روشن ہوگا اور کبھی بجھ جائے گا، آگ کی لپٹیں اسے پہنچ رہی ہوں گی، وہ مسلسل اسی جاں گسل حالت میں رہے گا یہاں تک کہ وہاں سے نکل جائے گا، تو وہ (خوشی سے) کہے گا: جو نجات مجھے ملی ہے وہ میرے سوا کسی اور کو نہیں ملی ہوگی، اور جس اذیت سے میں دوچار ہوا ہوں اس جیسی کسی کو نہیں پہنچی ہوگی، مجھے اس کی تپش نے جھلسا دیا اور پھر میں اس سے نجات پا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا: پھر اس کے لیے جنت کا ایک دروازہ کھولا جائے گا تو وہ التجا کرے گا: «يَا رَبِّ ، أَدْخِلْنِي هَذَا» ”اے میرے رب! مجھے اس میں داخل کر دے۔“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے میرے بندے! شاید اگر میں نے تجھے اس میں داخل کر دیا تو تو مجھ سے اس کے علاوہ کچھ اور مانگے گا، آپ ﷺ نے فرمایا: پھر اللہ اسے اس میں داخل کر دے گا، ابھی وہ وہاں کی نعمتوں پر حیران و مسرور ہی ہوگا کہ اس کے لیے ایک اور دروازہ کھول دیا جائے گا، تو جس نعمت میں وہ ہوگا وہ اسے اس نئی نعمت کے سامنے ہیچ (معمولی) نظر آنے لگے گی، وہ دوبارہ عرض کرے گا: «يَا رَبِّ ، أَدْخِلْنِي هَذَا» ”اے میرے رب! مجھے اس میں داخل کر دے۔“ اللہ فرمائے گا: کیا تم نے یہ عہد نہیں کیا تھا کہ تم اس کے علاوہ کچھ نہیں مانگو گے؟ وہ عرض کرے گا: تیری عزت و جلال کی قسم! اگر تو نے مجھے اس میں داخل کر دیا تو میں تجھ سے کچھ اور نہیں مانگوں گا، آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ اسے داخل کر دے گا حتیٰ کہ اسے چار ابواب تک باری باری داخل کیا جائے گا اور وہ ہر بار یہی سوال کرے گا، پھر اس کے سامنے ایک شخص آئے گا جو نور کی مانند چمک رہا ہوگا، جب وہ اسے دیکھے گا تو (اس کی ہیبت و عظمت کی وجہ سے) گر پڑے گا اور اسے سجدہ کرے گا، وہ شخص کہے گا: تمہارا کیا معاملہ ہے؟ وہ کہے گا: کیا تم میرے رب نہیں ہو؟ وہ کہے گا: میں تو محض ایک کارندہ (منتظم) ہوں، تمہارے لیے جنت میں میرے جیسے ایک ہزار کارندے اور ایک ہزار محلات ہیں، جن میں سے ہر دو محلوں کے درمیان ایک ہزار سال کی مسافت ہے، جن کا آخری سرا ویسا ہی (صاف) نظر آتا ہے جیسا قریب والا، پھر اس کے لیے سبز زمرد کا ایک دروازہ کھولا جائے گا جس میں ستر دروازے ہوں گے، ہر دروازے میں بیویاں، تخت اور خادم ہوں گے، وہ اپنی بیوی کے پاس بیٹھے گا تو وہ اسے جامِ محبت پیش کرے گی اور کہے گی: جب سے میں نے آپ کو یہ جام پیش کیا ہے، آپ کا حسن پہلے کی نسبت ستر گنا بڑھ گیا ہے، اس خاتون نے ستر لباس پہنے ہوں گے جن کے رنگ مختلف ہوں گے، اس کی پنڈلی کا گودا (باریکی کی بنا پر باہر سے) نظر آ رہا ہوگا، اور وہ شخص اپنے کپڑے اس کے سینے کے مقابل پہنے ہوگا اور اس کی جلد (جگر) اس شخص کے لیے آئینے کی مانند (صاف) ہوگی۔“
یہ اسناد صحیح اور متصل ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔