المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ فتنة الْقَبْرِ وعذاب الْقَبْرِ باب: قبر کے فتنے اور عذابِ قبر کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، ثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا السَّمْحِ أَخْبَرَهُ ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : الْمُؤْمِنُ فِي قَبْرِهِ فِي رَوْضَةٍ ، وَيُرَحَّبُ لَهُ فِي قَبْرِهِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا ، وَيُنَوَّرُ لَهُ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ ، أَتَدْرُونَ فِيمَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى ؟ قَالُوا : اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : عَذَابُ الْكَافِرِ فِي قَبْرِهِ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنَّهُ لَيُسَلَّطُ عَلَيْهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ تِنِّينًا ، أَتَدْرُونَ مَا التِّنِّينُ ؟ قَالَ : تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ حَيَّةً ، لِكُلِّ حَيَّةٍ سَبْعَةُ رُؤُوسٍ ، يَنْفُخُونَ فِي جِسْمِهِ ، وَيَلْسَعُونَهُ ، وَيَخْدِشُونَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”مومن اپنی قبر میں (جنت کے) ایک باغ میں ہوتا ہے، اس کی قبر کو ستر ہاتھ تک کشادہ کر دیا جاتا ہے اور اسے چودہویں رات کے چاند کی مانند روشن و منور کر دیا جاتا ہے۔ کیا تم جانتے ہو کہ یہ آیت کس پس منظر میں نازل ہوئی ہے: ﴿فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى﴾ [سورة طه: 124]؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کافر کو اس کی قبر میں دیے جانے والے عذاب کے متعلق ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس (کافر) پر ننانوے ”تنین“ (اژدھے) مسلط کر دیے جاتے ہیں، کیا تم جانتے ہو کہ ”تنین“ کیا ہے؟ وہ ننانوے ایسے سانپ ہیں کہ ہر سانپ کے سات سر ہیں، وہ اس کے جسم میں زہریلی پھونکیں مارتے ہیں، اسے ڈستے ہیں اور روزِ قیامت تک اسے نوچتے اور زخم لگاتے رہیں گے۔“
اس حدیث کو امام ابن حبان نے اپنی صحیح (رقم: 3122) میں روایت کیا ہے اور شعیب الارنؤوط نے اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔