❮
❯
حدیث نمبر: 4537
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ وَلَيْسَ بِالزَّهْرَانِيِّ ، ثَنَا بَقِيَّةُ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنِ الْهَيْثَمِ بْنِ مَالِكٍ الطَّائِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ الْأَزْدِيِّ ، عَنْ أَبِي الْحَجَّاجِ الثُّمَالِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَقُولُ الْقَبْرُ لِلْمَيِّتِ حِينَ يُوضَعُ فِيهِ : وَيْحَكَ يَا ابْنَ آدَمَ ! مَا غَرَّكَ بِي ؟ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنِّي بَيْتُ الْفِتْنَةِ ، وَبَيْتُ الظُّلْمَةِ ؟ مَا غَرَّكَ بِي إِذْ كُنْتَ تَمُرُّ بِي فَدَّادًا ، فَإِنْ كَانَ مُصْلِحًا أَجَابَ عَنْهُ مُجِيبٌ لِلْقَبْرِ : أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ ؟ قَالَ : فَيَقُولُ الْقَبْرُ : إِذًا أَعُودُ عَلَيْهِ خَضِرًا ، وَتَصْعَدُ رُوحُهُ إِلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ .
فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَائِذٍ : يَا أَبَا الْحَجَّاجِ ، وَمَا الْفَدَّادُ ؟ قَالَ : الَّذِي يُقَدِّمُ رِجْلًا وَيُؤَخِّرُ أُخْرَى ، كَمِشْيَتِكَ يَا ابْنَ أَخِي أَحْيَانًا ، قَالَ : وَهُوَ يَوْمَئِذٍ يَلْبَسُ وَيَتَهَيَّأُ .
ترجمہ

سیدنا ابوالحجاج ثمالی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جب میت کو قبر میں رکھا جاتا ہے تو قبر اسے پکار کر کہتی ہے: اے ابنِ آدم! تجھ پر افسوس ہے، تجھے میرے متعلق کس چیز نے دھوکے اور غفلت میں ڈال دیا؟ کیا تجھے علم نہ تھا کہ میں فتنہ و آزمائش کا گھر اور سخت تاریکی و اندھیرے کا ٹھکانہ ہوں؟ تجھے میرے معاملے میں کس چیز نے مغرور کر دیا جبکہ تو (زمین پر) میرے پاس سے 'فداد' (انتہائی تکبر اور اینٹھ کر چلنے والا) بن کر گزرا کرتا تھا؟ پس اگر وہ میت نیک اور صاحبِ اصلاح ہو تو قبر کو ایک غیبی جواب دینے والا اس کی طرف سے یہ جواب دیتا ہے: بھلا تمہارا کیا خیال ہے اگر یہ شخص (دنیا میں) نیکی کا حکم دینے والا اور برائی سے روکنے والا رہا ہو؟ اس پر قبر کہتی ہے: اگر معاملہ ایسا ہے تو پھر میں اس کے لیے سرسبز و شاداب، پرفضا اور وسیع بن جاؤں گی، اور اس کی روح رب العالمین کی بارگاہ میں بلند کر دی جائے گی۔“
راوی عبدالرحمن بن عائذ الازدی کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوالحجاج رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ 'فداد' سے کیا مراد ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ”اس سے مراد وہ شخص ہے جو (فخر و غرور کی وجہ سے) ایک قدم آگے اور دوسرا پیچھے رکھ کر (اکڑ کر) چلے، جیسا کہ اے میرے بھتیجے! کبھی کبھار تمہاری چال ہوتی ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ اس وقت وہ (ابن عائذ) عمدہ لباس زیب تن کیے ہوئے تھے اور بن سنور رہے تھے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4537
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 3644، 3645، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 2016»