المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ يأجوج ومأجوج باب: یاجوج و ماجوج کا بیان۔
حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ مُسْلِمٍ ، ثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، فَذَكَرَ حَدِيثًا مَرْفُوعًا ، قَالَ : ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنَا : إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مِنْ وَلَدِ آدَمَ ، وَإِنَّهُمْ لَوْ أُرْسِلُوا عَلَى النَّاسِ لَأَفْسَدُوا مَعَايِشَهُمْ ، وَلَنْ يَمُوتَ مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا تَرَكَ مِنْ ذُرِّيَّتِهِ أَلْفًا فَصَاعِدًا ، وَإِنَّ مِنْ وَرَائِهِمْ ثَلَاثَ أُمَمٍ : تَاوِيلَ ، وَتَارِيسَ ، وَمَنْسَكَ .سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک مرفوع حدیث ذکر فرمائی، پھر وہ ہمیں بیان کرنے لگے کہ: ”بے شک یاجوج و ماجوج اولادِ آدم ہی میں سے ہیں، اور اگر انہیں لوگوں کی طرف کھلا چھوڑ دیا جائے تو وہ ان کے ذرائعِ معاش اور معیشت کو تباہ و برباد کر دیں گے، ان میں سے کوئی بھی شخص اس وقت تک نہیں مرتا جب تک کہ وہ اپنی نسل سے ایک ہزار یا اس سے بھی زائد اولاد نہ چھوڑ جائے، اور ان کے عقب میں مزید تین قومیں آباد ہیں جن کے نام: تاویل، تاریس اور منسک ہیں۔“
اس حدیث کی سند میں ابواسحاق السبیعی مدلس اور مختلط راوی ہیں، نیز وہب بن جابر کے حالاتِ زندگی بھی زیادہ معروف نہیں ہیں، اس لیے اس کی سند میں ضعف پایا جاتا ہے، البتہ یاجوج و ماجوج کا اولادِ آدم میں سے ہونا دیگر صحیح روایات سے ثابت ہے۔