المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ الآيات الَّتِي قَبْلَ قِيَامِ الساعة كالدابة وطلوع الشَّمْسُ مِنْ مغربها باب: قیامت سے پہلے دابۃ الارض اور سورج کے مغرب سے طلوع ہونے جیسی نشانیوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 4491
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، ثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي صَادِقٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لِلْجَنَّةِ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابٍ ، سَبْعَةٌ مُغْلَقَةٌ ، وَبَابٌ مَفْتُوحٌ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جنت کے آٹھ دروازے ہیں، جن میں سے سات (فی الوقت) بند ہیں، جبکہ ایک دروازہ (توبہ کی قبولیت کے لیے) کھلا ہے، اور یہ اس وقت تک کھلا رہے گا جب تک کہ سورج اپنے مقامِ مغرب سے طلوع نہ ہو جائے۔“
اس حدیث کی تخریج امام ابوبکر بن ابی شیبہ نے اپنی المصنف (حدیث: 34212) میں کی ہے؛ اس کی سند میں موجود راوی شریک القاضی اپنے حافظے کی وجہ سے کلام زدہ ہیں، تاہم توبہ کا دروازہ کھلا رہنے کا مفہوم دیگر صحیح روایات میں بھی ثابت ہے۔