المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ الآيات الَّتِي قَبْلَ قِيَامِ الساعة كالدابة وطلوع الشَّمْسُ مِنْ مغربها باب: قیامت سے پہلے دابۃ الارض اور سورج کے مغرب سے طلوع ہونے جیسی نشانیوں کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، ثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي إِدَامٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : إِنَّهُ سَيَأْتِي مِثْلُ ثَلَاثِ لَيَالٍ مِنْ لَيَالِيكُمْ هَذِهِ ، فَإِذَا عَرَفَهَا الْمُتَهَجِّدُونَ يَقُومُ الرَّجُلُ فَيَقْرَأُ حِزْبَهُ ، ثُمَّ يَنَامُ ثُمَّ يَقُومُ فَيَقْرَأُ حِزْبَهُ ، ثُمَّ يَنَامُ ثُمَّ يَقُومُ فَيَقْرَأُ حِزْبَهُ ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذَا هَاجَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ فِي بَعْضٍ يَقُولُونَ : مَا هَذَا ؟ فَيَفْزَعُونَ إِلَى الْمَسَاجِدِ ، فَإِذَا هُمْ بِالشَّمْسِ قَدْ طَلَعَتْ مِنْ هَاهُنَا مِنْ مَغْرِبِهَا ، فَتَجِي حَتَّى إِذَا تَوَسَّطَتِ السَّمَاءَ رَجَعَتْ ، فَذَلِكَ : لا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا الْآيَةَ .سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”تمہاری ان راتوں جیسی مسلسل تین راتیں ایسی طویل آئیں گی کہ جب تہجد گزاروں کو ان کی طوالت کا اندازہ ہو جائے گا تو ان میں سے ایک شخص بیدار ہو کر اپنا تلاوت و تسبیح کا مقررہ حصہ پورا کرے گا، پھر وہ سو جائے گا، پھر دوبارہ بیدار ہو کر اپنا معمول پڑھے گا، پھر وہ سو جائے گا اور پھر بیدار ہو کر اپنا معمول پڑھے گا، پس جب وہ اسی کیفیت میں ہوں گے تو اچانک لوگ اضطراب کے عالم میں ایک دوسرے کی طرف دوڑیں گے اور کہیں گے کہ یہ کیا ہولناک صورتحال ہے؟ وہ سب سخت پریشانی اور خوف کے عالم میں مسجدوں کا رخ کریں گے، تو اچانک دیکھیں گے کہ سورج یہاں یعنی اپنے مقامِ غروب (مغرب) سے طلوع ہو چکا ہے، پھر وہ آسمان پر سفر کرتا رہے گا یہاں تک کہ جب عین وسطِ آسمان میں پہنچ جائے گا تو وہیں سے واپس لوٹ جائے گا، اور یہی وہ مرحلہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿لَا يَنفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِن قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا﴾ [سورة الأنعام: 158] یعنی اس وقت کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان فائدہ نہیں پہنچائے گا جو اس سے پہلے ایمان نہیں لایا تھا یا جس نے اپنے ایمان کی حالت میں کوئی نیک عمل نہیں کمایا تھا۔“
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی سلیمان بن ابی ادام ضعیف ہے، جس کی وجہ سے یہ روایت سنداً کمزور ہے۔