المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ الآيات الَّتِي قَبْلَ قِيَامِ الساعة كالدابة وطلوع الشَّمْسُ مِنْ مغربها باب: قیامت سے پہلے دابۃ الارض اور سورج کے مغرب سے طلوع ہونے جیسی نشانیوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 4489
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي إِسْمَاعِيلَ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنِ الْكَلْبِيِّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَلْتَقِيَ الشَّيْخَانِ ، فَيَقُولُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : مَتَى وُلِدْتَ ؟ فَيَقُولُ : يَوْمَ طَلَعَتِ الشَّمْسُ مِنَ الْمَغْرِبِ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”قیامت اس وقت تک برپا نہیں ہوگی جب تک کہ دو معمر اشخاص کی آپس میں ملاقات نہ ہو، پس ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے سوال کرے گا کہ تمہاری پیدائش کب ہوئی تھی؟ تو وہ جواب دے گا کہ جس دن سورج مغرب سے طلوع ہوا تھا۔“
اس حدیث کی سند میں محمد بن السائب الکلبی نامی راوی موجود ہے جو کہ محدثین کے نزدیک سخت ضعیف اور متروک الحدیث ہے، جس کی بنا پر اس روایت کی استنادی حیثیت انتہائی کمزور ہے۔