المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابٌ فِي المهدي وَغَيْرِهِ مِنْ الخلفاء العادلين باب: مہدی اور دیگر عادل خلفاء کا بیان۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي يُونُسَ ، ثَنَا أَبُو بَحْرٍ ، أَنَّ أَبَا الْجَلْدِ حَدَّثَهُ ، وَحَلَفَ عَلَيْهِ : أَنَّهُ لَا تَهْلِكُ هَذِهِ الْأُمَّةُ حَتَّى يَكُونَ فِيهَا اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً ، كُلُّهُمْ يَعْمَلُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ ، مِنْهُمْ رَجُلَانِ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَعِيشُ أَحَدُهُمَا أَرْبَعِينَ سَنَةً ، وَالْآخَرُ ثَلَاثِينَ سَنَةً ، وَيَكُونُ خُلَفَاءُ بَعْدَهُمْ لَيْسُوا مِنْهُمْ .ابو الجلد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے یہ حدیث بیان کی اور اس پر حلف اٹھاتے ہوئے کہا: ”یہ امت اس وقت تک ہرگز فنا نہیں ہوگی جب تک کہ اس میں بارہ خلفاء نہ ہو گزریں، وہ سب کے سب ہدایت اور دینِ حق کے مطابق عمل پیرا ہوں گے، ان بارہ میں سے دو شخص نبی کریم ﷺ کے اہل بیت میں سے ہوں گے، جن میں سے ایک چالیس سال تک (امورِ خلافت سنبھالے) رہے گا اور دوسرا تیس سال تک، جبکہ ان کے بعد ایسے خلفاء بھی ہوں گے جو ان (ہدایت یافتہ خلفاء) کے طریقے پر نہیں ہوں گے۔“
یہ روایت امام مسدد بن مسرہد نے اپنی مسند میں نقل کی ہے، اس کے راوی ابو الجلد جبلان بن جامع بصری ہیں جو کتبِ سابقہ کے علوم کے ماہر اور ثقہ تابعی تھے، اسی بنا پر انہوں نے اس پیش گوئی پر قسم کھائی ہے جو ان کے نزدیک سابقہ الہامی کتب کے مطالعے سے ثابت تھی۔