المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ الإشارة إِلَى غلبة الأعاجم عَلَى المماليك الإسلامية وذهاب زينة الدنيا بذل العرب باب: اسلامی ممالک پر عجمیوں کے غلبے اور عربوں کی ذلت سے دنیا کی زینت ختم ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4482
حَدَّثَنَا كَامِلُ بْنُ طَلْحَةَ ، ثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ حُدَيْجِ بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، قَالَ : سَمِعْتُ الْمُسْتَوْرِدَ بْنَ شَدَّادٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ ، وَإِنَّ أَجَلَ أُمَّتِي مِائَةُ سَنَةٍ ، فَإِذَا مَرَّ عَلَى أُمَّتِي مِائَةُ سَنَةٍ أَتَاهَا مَا أَوْعَدَهَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ .ترجمہ
سیدنا مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”ہر امت کے لیے ایک وقتِ مقررہ اور ایک میعاد ہوتی ہے، اور بلاشبہ میری امت کی (اس خاص دور کی) مدت سو سال ہے، پس جب میری امت پر سو برس کا عرصہ بیت جائے گا تو اس پر وہ (فیصلہ یا امرِ الٰہی) آ جائے گا جس کا اللہ عزوجل نے اس سے وعدہ فرمایا ہے“۔
اس حدیث کی سند میں عبد اللہ بن لہیعہ راوی ہیں جو حافظے کے اعتبار سے ضعیف ہیں، تاہم اس کا یہ مفہوم کہ سو سال گزرنے کے بعد اس وقت موجود کوئی بھی جانبر باقی نہیں رہے گا، صحیح احادیث سے ثابت اور موید ہے۔