❮
❯
حدیث نمبر: 4480
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، ثَنَا عُبَيْدُ بْنُ الْقَاسِمِ ، ثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ ثَعْلَبَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَسْجِدِ الْخَيْفِ ، وَقَالَ لِي أَصْحَابُهُ : إِلَيْكَ يَا وَاثِلَةُ ، أَيْ : تَنَحَّ عَنْ وَجْهِهِ ، فَقَالَ : دَعُوهُ فَإِنَّمَا جَاءَ لِيَسْأَلَ ، فَدَنَوْتُ ، فَقُلْتُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ ، أَفْتِنَا عَنْ أَمْرٍ نَأْخُذُهُ عَنْكَ مِنْ بَعْدِكَ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لِتُفْتِكَ نَفْسُكَ ، قُلْتُ : وَكَيْفَ لِي بِذَلِكَ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ ، وَإِنْ أَفْتَاكَ الْمُفْتُونَ ، قُلْتُ : وَكَيْفَ لِي بِعِلْمِ ذَلِكَ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَضَعُ يَدَكَ عَلَى فُؤَادِكَ ، فَإِنَّ الْقَلْبَ يَسْكُنُ إِلَى الْحَلَالِ ، وَلَا يَسْكُنُ لِلْحَرَامِ ، وَإِنَّ وَرَعَ الْمُسْلِمِ أَنْ يَدَعَ الصَّغِيرَ مَخَافَةَ أَنْ يَقَعَ فِي الْكَبِيرِ ، قُلْتُ : فَمَنِ الْحَرِيصُ ؟ قَالَ : الَّذِي يَطْلُبُ الْمَكْسَبَ فِي غَيْرِ حِلِّهَا ، قُلْتُ : فَمَنِ الْوَرِعُ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الَّذِي يَقِفُ عِنْدَ الشُّبْهَةِ ، قُلْتُ : فَمَنِ الْمُؤْمِنُ ؟ قَالَ : مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَدِمَائِهِمْ ، قُلْتُ : فَمَنِ الْمُسْلِمُ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ ، قُلْتُ : فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَلِمَةُ حَقٍّ عِنْدَ إِمَامٍ جَائِرٍ .
الْعَلَاءُ بْنُ ثَعْلَبَةَ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مَجْهُولٌ .
وَلِآخِرِهِ شَاهِدٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي عَبْدَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، أَخْرَجَهُ الْبَزَّارُ .
ترجمہ

سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو مسجدِ خیف میں دیکھا، تو آپ ﷺ کے صحابہ نے مجھ سے کہا: ”اے واثلہ! پیچھے ہٹ جاؤ،“ یعنی آپ ﷺ کے سامنے سے ہٹ جاؤ، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، یہ تو کچھ دریافت کرنے کے لیے آیا ہے۔“ چنانچہ میں قریب ہوا اور عرض کیا: ”یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، ہمیں کسی ایسے جامع معاملے کے بارے میں فتویٰ دیجیے جسے ہم آپ کے بعد (اپنے عمل کے لیے) مضبوطی سے تھام لیں؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تمہارا اپنا نفس ہی تمہیں فتویٰ دے دے گا۔“ میں نے عرض کیا: ”مجھے یہ بصیرت کیسے حاصل ہو سکتی ہے؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم اس چیز کو چھوڑ دو جو تمہیں شک و شبہ میں ڈالے اور اس چیز کو اختیار کرو جو تمہیں شک میں نہ ڈالے، اگرچہ تمہیں فتویٰ دینے والے (اپنے فہم کے مطابق) فتویٰ دیتے رہیں۔“ میں نے عرض کیا: ”میں اس کی پہچان کا علم کیسے حاصل کروں؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنا ہاتھ اپنے دل پر رکھو، کیونکہ دل حلال کام پر اطمینان و سکون پاتا ہے اور حرام کام پر اسے سکون نہیں ملتا؛ اور ایک مسلمان کا تقویٰ اور پرہیزگاری یہ ہے کہ وہ بڑے گناہ میں مبتلا ہونے کے اندیشے سے معمولی (مشتبہ) چیز کو بھی چھوڑ دے۔“ میں نے پوچھا: ”حریص کون ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ شخص جو ناجائز اور حرام ذرائع سے مال و متاع تلاش کرے۔“ میں نے پوچھا: ”متقی اور پرہیزگار (صاحبِ ورع) کون ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو شبہ والی جگہ پر رک جائے۔“ میں نے پوچھا: ”مومن کون ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ شخص جس سے لوگ اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے معاملے میں مامون و بے خوف ہو جائیں۔“ میں نے پوچھا: ”مسلمان کون ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کی زبان اور ہاتھ (کی تکلیف) سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔“ میں نے پوچھا: ”سب سے افضل جہاد کون سا ہے؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا۔“
اس کی سند میں موجود راوی العلاء بن ثعلبہ کے متعلق امام ابو حاتم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ ”مجہول“ (نامعلوم) ہے۔
اس حدیث کے آخری حصے کے لیے سیدنا ابو عبدہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے ایک شاہد (تائیدی روایت) موجود ہے جسے امام بزار رحمہ اللہ نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4480
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: الْعَلَاءُ بْنُ ثَعْلَبَةَ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مَجْهُولٌ . »
«أخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 18115، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 360»