المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ جَوَازِ تَرْكِ النَّهْيِ عَنْ المنكر لِمَنْ لَا يطيق باب: طاقت نہ رکھنے والے کے لیے برائی سے روکنا ترک کرنے کے جواز کا بیان۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا الْخَلِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا ، ثَنَا حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الْحَسَنِ ، قَالَ : قَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا أَبَا سَعِيدٍ إِنَّ الْحَجَّاجَ قَدْ أَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ حَتَّى قَرُبْنَا مِنَ الْعَصْرِ ، فَقُمْ إِلَيْهِ ، وَأْمُرْهُ بِتَقْوَى اللهِ تَعَالَى ، قَالَ الْحَسَنُ : إِذًا يَقْتُلَنِي ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ : أَلَيْسَ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : كَانُوا لا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُنْكَرٍ فَعَلُوهُ ، الْآيَةَ ، قَالَ الْحَسَنُ : حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَيْسَ لِلْمُؤْمِنِ أَنْ يُذِلَّ نَفْسَهُ ، قَالُوا : وَكَيْفَ يُذِلُّهَا يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ : يَتَكَلَّفُ مِنَ الْبَلَاءِ مَا لَا يُطِيقُ .
رُوَاتُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا الْخَلِيلَ ، وَهُوَ عِنْدَ أَبِي يَعْلَى فِي قِصَّةٍ طَوِيلَةٍ مِنْ طَرِيقِ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ الْقُرْدُوسِيِّ ، عَنِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ ، أَنَّهُ حَدَّثَ بِحَدِيثَيْنِ : أَحَدُهُمَا : عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَالثَّانِي قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ هُنَا الْمَتْنَ .سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ امام حسن بصری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: ”اے ابوسعید! حجاج بن یوسف نے جمعہ کی نماز میں اس قدر تاخیر کر دی ہے کہ ہم عصر کے وقت کے بالکل قریب پہنچ گئے ہیں، لہٰذا آپ اس کے سامنے کھڑے ہوں اور اسے اللہ تعالیٰ کے تقویٰ اور خوف کا حکم دیں۔“ امام حسن بصری رحمہ اللہ نے جواب دیا: ”ایسی صورت میں تو وہ مجھے قتل کر دے گا۔“ اس شخص نے (دلیل دیتے ہوئے) عرض کیا: ”کیا اللہ عزوجل نے یہ نہیں فرمایا: ﴿كَانُوا لَا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُنْكَرٍ فَعَلُوهُ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ﴾ [سورة المائدة: 79] ”وہ ایک دوسرے کو ان برے کاموں سے نہیں روکتے تھے جو وہ کرتے تھے، یقیناً وہ بہت ہی برا کام تھا جو وہ کیا کرتے تھے“۔“ امام حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مجھے سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”کسی مومن کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے آپ کو ذلت میں ڈالے۔“ صحابہ کرام نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! وہ خود کو کس طرح ذلیل کرتا ہے؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وہ ایسی آزمائش یا مصیبت اپنے سر لے لیتا ہے جس کی وہ طاقت نہیں رکھتا۔“
اس روایت کے راوی ثقہ ہیں سوائے خلیل بن زکریا کے، اور یہی روایت امام ابو یعلیٰ کے ہاں ایک طویل قصے کی صورت میں معلی بن زیاد القردوسی کے واسطے سے حسن بصری سے مروی ہے، جس میں انہوں نے دو احادیث بیان کیں: پہلی سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے اور دوسری میں رسول اللہ ﷺ کے اس مذکورہ بالا ارشادِ گرامی کا ذکر کیا ہے۔