المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ ظهور الفساد فِي آخر الزمان وَفَضْلِ الْأَمْرِ بالمعروف فِي ذَلِكَ الوقت باب: آخر زمانے میں فساد کے ظہور اور اس وقت امر بالمعروف کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ الرَّبِيعِ ، عَنْ مُوسَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يُمَكِّنُ اللهُ تَعَالَى لَكُمْ فِي الْأَرْضِ ، تَعْمَلُونَ فِيهَا مَا شَاءَ اللهُ أَنْ تَعْمَلُوا ، فَإِذَا عَمِلْتُمْ فِيهَا بِالْمَعَاصِي أُدِيلَ مِنْكُمْ عَدُوُّكُمْ فَرَدُّوكُمْ إِلَى أَرْضِ الْعَرَبِ ، قَالَ : فَقُلْتُ عِنْدَ ذَلِكَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، كَيْفَ تَحْمِلُنَا أَرْضُ الْعَرَبِ ، وَقَدْ حَدَّثْتَنَا بِكَثْرَةِ الْمُسْلِمِينَ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يُنَزِّلُ اللهُ لَكُمْ فِيهَا رِزْقًا ، كَمَا أَنْزَلَ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ إِذْ تَاهُوا .سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمہیں زمین میں تمکین و اقتدار عطا فرمائے گا، تم اس میں وہ تمام اعمال انجام دو گے جو اللہ چاہے گا کہ تم کرو، لیکن جب تم وہاں نافرمانیوں اور گناہوں میں مبتلا ہو جاؤ گے تو تمہارے دشمن کو تم پر غلبہ دے دیا جائے گا اور وہ تمہیں (دھکیل کر) واپس سرزمینِ عرب کی طرف لوٹا دیں گے۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اسی وقت عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! سرزمینِ عرب ہمیں کیسے سہار سکے گی (یعنی اتنی بڑی آبادی کی گنجائش وہاں کیسے ہوگی) جبکہ آپ نے ہمیں مسلمانوں کی کثرت کے بارے میں بتایا ہے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمہارے لیے وہاں (غیب سے) رزق کے اسباب ایسے ہی پیدا فرما دے گا جیسے اس نے بنی اسرائیل کے لیے اس وقت پیدا فرمائے تھے جب وہ (میدانِ تیہ میں) بھٹک رہے تھے۔“
اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں غسان بن ربیع اور موسیٰ بن خلف العمی ہیں جن کے بارے میں محدثین کے ہاں کلام پایا جاتا ہے، تاہم حدیث کا متن مسلمانوں کو معاصی کے عبرتناک انجام سے ڈراتا ہے۔