المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ ظهور الفساد فِي آخر الزمان وَفَضْلِ الْأَمْرِ بالمعروف فِي ذَلِكَ الوقت باب: آخر زمانے میں فساد کے ظہور اور اس وقت امر بالمعروف کی فضیلت کا بیان۔
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ هُوَ ابْنُ هَارُونَ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْفَزَارِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ زَحْرٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ إِقْبَالًا وَإِدْبَارًا ، وَإِنَّ لِهَذَا الدِّينِ إِقْبَالًا وَإِدْبَارًا ، وَإِنَّ مِنْ إِقْبَالِ هَذَا الدِّينِ مَا بَعَثَنِي اللهُ بِهِ ، حَتَّى إِنَّ الْقَبِيلَةَ لَتَفْقَهُ مِنْ عِنْدِ آخِرِهَا ، حَتَّى لَا يَبْقَى إِلَّا الْفَاسِقُ أَوِ الْفَاسِقَانِ ، فَهُمَا مَقْهُورَانِ ، مَقْمُوعَانِ ، ذَلِيلَانِ ، إِنْ تَكَلَّمَا أَوْ نَطَقَا قُمِعَا ، وَقُهِرَا ، وَاضْطُهِدَا ، ثُمَّ ذَكَرَ مِنْ إِدْبَارِ هَذَا الدِّينِ : أَنْ تَجْفُوَ الْقَبِيلَةُ كُلُّهَا مِنْ عِنْدِ آخِرِهَا حَتَّى لَا يَبْقَى فِيهَا إِلَّا الْفَقِيهُ أَوِ الْفَقِيهَانِ ، فَهُمَا مَقْهُورَانِ ، مَقْمُوعَانِ ، ذَلِيلَانِ ، إِنْ تَكَلَّمَا أَوْ نَطَقَا قُمِعَا ، وَقُهِرَا ، وَاضْطُهِدَا ، وَقِيلَ لَهُمَا : أَتَطْغَيَانِ عَلَيْنَا ؟ حَتَّى يُشْرَبَ الْخَمْرُ فِي نَادِيهِمُ - الْمُنْكَرُ - وَمَجَالِسِهِمْ ، وَأَسْوَاقِهِمْ ، وَتُنْحَلُ الْخَمْرُ غَيْرَ اسْمِهَا ، حَتَّى يَلْعَنَ آخِرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَوَّلَهَا ، إِلَّا حَلَّتْ عَلَيْهِ اللَّعْنَةُ ، وَيَقُولُونَ : لَا بَأْسَ بِهَذَا الشَّرَابِ ، يَشْرَبُ الرَّجُلُ مِنْهُمْ مَا بَدَا لَهُ ، ثُمَّ يَكُفُّ عَنْهُ ، حَتَّى تَمُرَّ الْمَرْأَةُ فَيَقُومَ إِلَيْهَا ، فَيَرْفَعَ ذَيْلَهَا فَيَنْكِحَهَا ، وَهُمْ يَنْظُرُونَ ، كَمَا يَرْفَعُ ذَيْلَ النَّعْجَةِ ، وَرَفَعَ ثَوْبًا عَلَيْهِ مِنْ هَذِهِ السُّحُولِيَّةِ ، فَيَقُولُ الْقَائِلُ مِنْهُمْ : لَوْ تَجَنَّبْتُمُوهَا عَنِ الطَّرِيقِ ، فَذَلِكَ فِيهِمْ كَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ الزَّمَانَ وَأَمَرَ بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَى عَنِ الْمُنْكَرِ ، فَلَهُ أَجْرُ خَمْسِينَ مِمَّنْ صَحِبَنِي وَآمَنَ بِي وَصَدَّقَنِي .
هَذَا حَدِيثٌ ضَعِيفٌ ، فِيهِ أَرْبَعَةٌ فِي نَسَقٍ .سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یقیناً ہر چیز کے لیے عروج اور زوال ہے، اور بے شک اس دین کے لیے بھی عروج اور زوال ہے۔ اس دین کے عروج کا دور وہ ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے مجھے مبعوث فرمایا ہے، یہاں تک کہ پورا قبیلہ اپنے آخری فرد تک دین کی سمجھ بوجھ حاصل کر لے گا، حتیٰ کہ ان میں سوائے ایک یا دو گناہگاروں کے کوئی نہ بچے گا، اور وہ دونوں بھی مغلوب، کچلے ہوئے اور ذلیل و خوار ہوں گے، اگر وہ بات کریں گے یا زبان کھولیں گے تو انہیں دبا دیا جائے گا، ان پر غلبہ پا لیا جائے گا اور انہیں ستایا جائے گا۔ پھر آپ ﷺ نے اس دین کے زوال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: پورے کا پورا قبیلہ اپنے آخری فرد تک جاہل اور بدخو ہو جائے گا، یہاں تک کہ ان میں سوائے ایک یا دو فقیہ (دین کی سمجھ بوجھ رکھنے والے) کے کوئی نہ بچے گا، تو وہ دونوں مغلوب، کچلے ہوئے اور ذلیل و خوار ہوں گے، اگر وہ بات کریں گے یا زبان کھولیں گے تو انہیں دبا دیا جائے گا، ان پر غلبہ پا لیا جائے گا اور انہیں ستایا جائے گا، اور ان سے کہا جائے گا کہ کیا تم ہم پر سرکشی کرتے ہو؟ یہاں تک کہ ان کی محفلوں، مجالس اور بازاروں میں کھلم کھلا شراب پی جائے گی، اور شراب کا نام بدل کر اسے حلال قرار دے دیا جائے گا، حتیٰ کہ اس امت کے آخری لوگ اس کے پہلے لوگوں پر لعنت کریں گے، مگر جس پر (ایسا کرنے کی وجہ سے خود) لعنت واجب ہو جائے، اور وہ کہیں گے کہ اس مشروب میں کوئی حرج نہیں ہے، ان میں سے کوئی آدمی جتنا جی چاہے گا اسے پیے گا اور پھر اس سے باز رہے گا، یہاں تک کہ نوبت یہاں تک پہنچے گی کہ جب کوئی عورت گزرے گی تو وہ بدکار شخص اس کی طرف کھڑا ہو جائے گا اور اس کا دامن اٹھا کر اس سے برسرِ عام بدکاری کرے گا اور لوگ اسے دیکھ رہے ہوں گے، بالکل اسی طرح جیسے کسی بھیڑ کی دم اٹھائی جاتی ہے (راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اس وقت سہولی کپڑے کا اپنا ایک تہبند سا اٹھا کر دکھایا)، تو ان میں سے کوئی بہت زیادہ پارسا کہنے والا کہے گا کہ کاش! تم اسے راستے سے ہٹ کر کسی اوٹ میں لے جاتے، تو ایسا کہنے والا شخص ان میں بالکل ایسا معتبر و بلند مرتبہ ہو گا جیسے تمہارے درمیان ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما ہیں۔ پس جو شخص اس زمانے کو پائے اور وہ نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے، تو اسے مجھ پر ایمان لانے والے اور میری تصدیق کرنے والے میرے پچاس صحابہ کے برابر اجر ملے گا۔“
یہ حدیث ضعیف ہے، اس کی سند میں چار راوی پے در پے ضعیف ہیں۔