المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ ظهور الفساد فِي آخر الزمان وَفَضْلِ الْأَمْرِ بالمعروف فِي ذَلِكَ الوقت باب: آخر زمانے میں فساد کے ظہور اور اس وقت امر بالمعروف کی فضیلت کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْوَرْكَانِيُّ ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الْجَلْدِ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ الْمُزَنِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لَا تَذْهَبُ اللَّيَالِي وَالْأَيَّامُ حَتَّى يَخْلَقَ الْقُرْآنُ فِي صُدُورِ أَقْوَامٍ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ كَمَا تَخْلَقُ الثِّيَابُ ، وَيَكُونَ غَيْرُهُ أَعْجَبَ إِلَيْهِمْ ، وَيَكُونَ أَمْرُهُمْ طَمَعًا كُلُّهُ ، لَا يُخَالِطُهُ خَوْفٌ ، إِنْ قَصَّرَ عَنْ حَقِّ اللهِ تَعَالَى مَنَّتْهُ نَفْسُهُ الْأَمَانِيَّ ، وَإِنْ تَجَاوَزَ إِلَى نَهْيِ اللهِ تَعَالَى ، قَالَ : أَرْجُو أَنْ يَتَجَاوَزَ اللهُ عَنِّي ، يَلْبَسُونَ جُلُودَ الضَّأْنِ عَلَى قُلُوبِ الذِّئَابِ ، أَفْضَلُهُمْ فِي أَنْفُسِهِمُ الْمُدَاهِنُ .
قِيلَ : وَمَا الْمُدَاهِنُ ؟ قَالَ : الَّذِي لَا يَأْمُرُ وَلَا يَنْهَى .سیدنا معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”زمانہ تب تک ختم نہیں ہو گا جب تک کہ اس امت کے کچھ گروہوں کے سینوں میں قرآن (کا اثر اور تاثیر) اس طرح بوسیدہ اور پرانا نہ ہو جائے جیسے لباس بوسیدہ ہو جاتا ہے، اور ان کے نزدیک قرآن کے علاوہ دیگر چیزیں زیادہ پسندیدہ اور باعثِ تعجب بن جائیں گی، ان کے تمام معاملات سراسر حرص و طمع پر مبنی ہوں گے جس میں ذرہ برابر بھی خوفِ خدا شامل نہ ہو گا، اگر وہ اللہ تعالیٰ کے کسی حق کی ادائیگی میں کوتاہی کریں گے تو ان کے نفس انہیں جھوٹی آرزوؤں اور تمناؤں کے فریب میں مبتلا رکھیں گے، اور اگر وہ اللہ کی طرف سے حرام کردہ کسی گناہ کا ارتکاب کریں گے تو (بڑی بے باکی سے) کہیں گے: ”مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ میری اس لغزش سے درگزر فرما دے گا“، ان کے دل بھیڑیوں جیسے (سخت اور خونخوار) ہوں گے جن پر انہوں نے بھیڑوں کی کھالوں جیسے (نرم اور سادہ) لبادے اوڑھ رکھے ہوں گے، ان کے نزدیک ان میں سب سے بہترین شخص وہ ہو گا جو «الْمُدَاهِنُ» ”مداہنت اور بے جا مصلحت پسندی کرنے والا“ ہو گا۔“
دریافت کیا گیا کہ «الْمُدَاهِنُ» سے کیا مراد ہے؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”وہ شخص جو (حالات کی مصلحت کے پیشِ نظر) نہ تو نیکی کا حکم دے اور نہ ہی برائی سے روکے۔“