المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ قَضَاءِ الْفَوَائِتِ باب: فوت شدہ نمازوں کی قضا کا بیان۔
حدیث نمبر: 446
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : ( خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَعْرَسَ مِنَ اللَّيْلِ ، فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ إِلَّا بِالشَّمْسِ ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَذَّنَ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ) .
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : فَمَا يَسُرُّنِي بِهِ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا - يَعْنِي الرُّخْصَةَ - .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (ایک سفر کے دوران) باہر تشریف لے گئے، پھر رات کے آخری پہر آپ ﷺ نے آرام کی غرض سے پڑاؤ ڈالا، پس (نیند کے غلبے کی وجہ سے) آپ ﷺ بیدار نہ ہو سکے یہاں تک کہ سورج نکل آیا، تو رسول اللہ ﷺ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو (اذان کا) حکم دیا، چنانچہ انہوں نے اذان دی اور پھر آپ ﷺ نے (فجر کی) دو رکعتیں ادا فرمائیں۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”مجھے اس رخصت (اور شرعی سہولت) کے بدلے میں دنیا اور جو کچھ اس میں ہے، اس کا ملنا بھی اس قدر خوشی نہیں دے سکتا۔“