المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ قَضَاءِ الْفَوَائِتِ باب: فوت شدہ نمازوں کی قضا کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلَمْ يَذْكُرْهَا إِلَّا وَهُوَ مَعَ الْإِمَامِ فَلْيُصَلِّ مَعَ الْإِمَامِ ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ فَلْيُعِدِ الصَّلَاةَ الَّتِي نَسِيَ ، ثُمَّ لْيُعِدِ الصَّلَاةَ الَّتِي صَلَّاهَا مَعَ الْإِمَامِ " .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کوئی نماز بھول جائے اور اسے وہ نماز اس وقت یاد آئے جب وہ امام کے ساتھ (کوئی دوسری) نماز پڑھ رہا ہو، تو اسے چاہیے کہ وہ امام کے ساتھ اپنی اس نماز کو پورا کرلے، پھر جب وہ اپنی اس نماز سے فارغ ہو جائے تو (پہلے) وہ نماز پڑھے جو وہ بھول گیا تھا، اور پھر اس نماز کو بھی دوبارہ پڑھے جو اس نے امام کے ساتھ ادا کی ہے۔“
اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند (5621) میں روایت کیا ہے؛ اس کی سند میں موجود راوی سعید بن عبد الرحمن الجمحی کی وجہ سے اس کی مرفوعاً نسبت میں کلام ہے، جبکہ یہ روایت سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے موقوفاً صحیح سند کے ساتھ ثابت ہے۔