المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ قتل علي رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بیان۔
وَقَالَ الْحُمَيْدِيُّ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَمَّنْ أَخْبَرَهُ ، عَنِ الْحَسَنِ أَوِ الْحُسَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : إِنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : لَقِيَنِي حَبِيبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْنِي فِي الْمَنَامِ - نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَشَكَوْتُ إِلَيْهِ مَا لَقِيتُ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ بَعْدَهُ ، فَوَعَدَنِي الرَّاحَةَ مِنْهُمْ ، فَمَا لَبِثَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَّا ثَلَاثًا .سیدنا حسن یا حسین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”خواب میں مجھ سے میرے محبوب، اللہ کے نبی ﷺ کی ملاقات ہوئی، تو میں نے آپ ﷺ سے ان (شدید مشکلات اور فتنوں) کا شکوہ کیا جو آپ ﷺ کے بعد مجھے اہل عراق کی جانب سے پیش آئے، جس پر آپ ﷺ نے مجھ سے ان لوگوں سے راحت و خلاصی پانے کا وعدہ فرمایا۔“ راوی کہتے ہیں کہ اس خواب کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ صرف تین دن ہی زندہ رہے (اور شہادت پا کر ان کے فتنوں سے نجات پا گئے)۔
اس روایت کی سند میں ایک راوی مبہم (جس کا نام ذکر نہیں کیا گیا) ہے، تاہم دیگر تاریخی اور روایتی شواہد سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ خواب اور اس کے بعد آپ کی شہادت کا تذکرہ ثابت ہے۔