❮
❯
حدیث نمبر: 4447
وَقَالَ الْحُمَيْدِيُّ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَمَّنْ أَخْبَرَهُ ، عَنِ الْحَسَنِ أَوِ الْحُسَيْنِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : إِنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : لَقِيَنِي حَبِيبِي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعْنِي فِي الْمَنَامِ - نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَشَكَوْتُ إِلَيْهِ مَا لَقِيتُ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ بَعْدَهُ ، فَوَعَدَنِي الرَّاحَةَ مِنْهُمْ ، فَمَا لَبِثَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَّا ثَلَاثًا .
ترجمہ

سیدنا حسن یا حسین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”خواب میں مجھ سے میرے محبوب، اللہ کے نبی ﷺ کی ملاقات ہوئی، تو میں نے آپ ﷺ سے ان (شدید مشکلات اور فتنوں) کا شکوہ کیا جو آپ ﷺ کے بعد مجھے اہل عراق کی جانب سے پیش آئے، جس پر آپ ﷺ نے مجھ سے ان لوگوں سے راحت و خلاصی پانے کا وعدہ فرمایا۔“ راوی کہتے ہیں کہ اس خواب کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ صرف تین دن ہی زندہ رہے (اور شہادت پا کر ان کے فتنوں سے نجات پا گئے)۔
اس روایت کی سند میں ایک راوی مبہم (جس کا نام ذکر نہیں کیا گیا) ہے، تاہم دیگر تاریخی اور روایتی شواہد سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ خواب اور اس کے بعد آپ کی شہادت کا تذکرہ ثابت ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4447
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»