المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ قتل علي رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بیان۔
وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى ، ثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَمَّارٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَنَامِي ، فَشَكَوْتُ إِلَيْهِ مَا لَقِيتُ مِنْ أُمَّتِهِ مِنَ التَّكْذِيبِ وَالْأَذَى ، فَبَكَيْتُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا تَبْكِ يَا عَلِيُّ ، وَالْتَفَتَ ، فَالْتَفَتُّ فَإِذَا رَجُلَانِ يَتَصَعَّدَانِ ، وَإِذَا جَلَامِيدُ تَرْضَخُ رُؤُوسَهُمَا حَتَّى تُفْضَحَ ، ثُمَّ تَعُودُ ، فَغَدَوْتُ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَمَا كُنْتُ أَغْدُو عَلَيْهِ كُلَّ يَوْمٍ ، حَتَّى إِذَا كُنْتُ فِي الْحَرَارِيقِ لَقِيتُ النَّاسَ ، فَقَالُوا : قُتِلَ .سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”میں نے نبی کریم ﷺ کو اپنے خواب میں دیکھا، تو میں نے آپ ﷺ سے اس تکذیب اور اذیت رسانی کا شکوہ کیا جو مجھے آپ کی امت کی طرف سے پہنچی تھی، پھر میں (رنج و ملال سے) رو پڑا، تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اے علی! مت رو۔“ پھر آپ ﷺ نے ایک طرف رخ پھیرا، تو میں نے بھی اسی جانب دیکھا، تو اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ دو شخص بلندی کی طرف چڑھ رہے ہیں اور بڑے بڑے بھاری پتھر ان کے سروں کو کچل رہے ہیں یہاں تک کہ وہ پاش پاش ہو جاتے ہیں، پھر وہ سر دوبارہ اپنی اصلی حالت پر لوٹ آتے ہیں۔“ (راوی ابوصالح کہتے ہیں کہ) پھر میں صبح سویرے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے نکلا جیسا کہ میں روزانہ ان کے پاس جایا کرتا تھا، یہاں تک کہ جب میں ’حراریق‘ نامی مقام پر پہنچا تو میری ملاقات لوگوں سے ہوئی، انہوں نے بتایا کہ: ”سیدنا علی رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے ہیں۔“
یہ روایت المستدرک للحاکم میں مروی ہے، امام حاکم نے اسے صحیح الاسناد قرار دیا ہے، تاہم دیگر ائمہ نے اس کی سند میں موجود راوی شریک بن عبد اللہ القاضی کے حافظے کی بنا پر اس پر علمی کلام کیا ہے۔