❮
❯
حدیث نمبر: 4448
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِي ، ثَنَا سُكَيْنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ : لَمَّا قُتِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَامَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَطِيبًا فَحَمِدَ اللهَ تَعَالَى وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ : وَاللهِ لَقَدْ قَتَلْتُمُ اللَّيْلَةَ رَجُلًا فِي لَيْلَةٍ نَزَلَ فِيهَا الْقُرْآنُ ، وَفِيهَا رُفِعَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ ، وَفِيهَا قُتِلَ يُوشَعُ بْنُ نُونٍ فَتَى مُوسَى عَلَيْهِمُ السَّلَامُ .
ترجمہ

جعفر بن محمد رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ علی بن حسین رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے تو سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، پس انہوں نے اللہ تبارک و تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمایا: ”اما بعد! اللہ کی قسم، تم نے آج کی رات ایک ایسے مردِ جلیل کو شہید کر دیا ہے جو ایک ایسی رات میں (خالقِ حقیقی سے جا ملے) جس میں قرآنِ مجید نازل ہوا تھا، اور اسی رات حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام (آسمان پر) اٹھائے گئے تھے، اور اسی رات حضرت موسیٰ علیہ السلام کے رفیقِ خاص اور خادمِ باوفا یوشع بن نون علیہ السلام قتل کیے گئے تھے۔“
اسے امام ابویعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں سکین بن عبدالعزیز راوی ضعیف ہے لیکن اس کے شواہد مسند احمد اور دیگر کتبِ حدیث میں موجود ہیں جو اسے تقویت دیتے ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4448
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح »
«أخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 8464»