المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ قتل علي رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، ثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَشْقَى الْأَوَّلِينَ ؟ قُلْتُ : عَاقِرُ النَّاقَةِ ، قَالَ : صَدَقْتَ ، فَمَنْ أَشْقَى الْآخِرِينَ ؟ قُلْتُ : لَا عِلْمَ لِي ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : الَّذِي يَضْرِبُكَ عَلَى هَذِهِ ، وَأَشَارَ إِلَى يَافُوخِهِ . وَكَانَ يَقُولُ : وَدِدْتُ لَوْ قَدِ انْبَعَثَ أَشْقَاكُمْ فَخَضَّبَ هَذِهِ مِنْ هَذِهِ يَعْنِي لِحْيَتَهُ مِنْ دَمِ رَأْسِهِ - .سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے دریافت فرمایا: ”اگلوں (پہلی امتوں) میں سب سے زیادہ بدبخت کون تھا؟“ میں نے عرض کیا: ”(قومِ صالح کی) اونٹنی کی کونچیں کاٹنے والا۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے سچ کہا، تو پھر پچھلوں میں سب سے زیادہ بدبخت کون ہے؟“ میں نے عرض کیا: ”اللہ کے رسول! مجھے اس کا علم نہیں ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ شخص جو تمہارے یہاں ضرب لگائے گا“ اور آپ ﷺ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سر کے اوپری حصے (تالو) کی طرف اشارہ فرمایا۔ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ (شہادت کے شوق میں اکثر) فرمایا کرتے تھے: ”میری یہ خواہش ہے کہ تمہارا وہ سب سے زیادہ بدبخت شخص (اپنے ناپاک ارادے کے ساتھ) اٹھ کھڑا ہو اور اسے اس سے رنگین کر دے“ یعنی سر سے بہنے والے خون سے آپ کی داڑھی مبارک کو خضاب کر دے۔
اس حدیث کو امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں رشدین بن سعد راوی ضعیف ہے، تاہم حدیث کے شواہد کتبِ ستہ اور دیگر کتبِ حدیث میں موجود ہیں جو اسے تقویت دیتے ہیں۔