المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ قتل علي رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بیان۔
وَقَالَ عَبْدٌ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، ثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ يَزِيدَ بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ : مَرِضَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَرَضًا خِفْنَا عَلَيْهِ مِنْهُ ، ثُمَّ إِنَّهُ نَقِهَ وَصَحَّ ، فَقُلْنَا : الْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي أَصَحَّكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، قَدْ كُنَّا خِفْنَا عَلَيْكَ مِنْ مَرَضِكَ هَذَا ، قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : لَكِنِّي لَمْ أَخَفْ عَلَى نَفْسِي ، حَدَّثَنِي الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ ، قَالَ : لَا تَمُوتُ حَتَّى يُضْرَبَ هَذَا مِنْكَ ، وَيَقْتُلَكَ أَشْقَاهَا ، كَمَا عَقَرَ نَاقَةَ اللهِ تَعَالَى أَشْقَى بَنِي فُلَانٍ ، خَصَّهُ إِلَى فَخِذِهِ الدُّنْيَا دُونَ ثَمُودَ .ابوسنان الدؤلی یزید بن امیہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ ایسی شدید بیماری میں مبتلا ہوئے کہ ہمیں ان کی زندگی کے بارے میں سخت اندیشہ لاحق ہو گیا، پھر جب وہ تندرست اور صحت یاب ہو گئے تو ہم نے عرض کیا: «الْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي أَصَحَّكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں جس نے آپ کو شفا و تندرستی عطا فرمائی اے امیر المؤمنین!“ ہم آپ کی اس بیماری کی وجہ سے آپ کے متعلق بہت زیادہ خوفزدہ ہو گئے تھے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”لیکن میں اپنی جان کے بارے میں قطعی خوفزدہ نہیں تھا، کیونکہ مجھ سے صادق و مصدوق (نبی کریم ﷺ) نے بیان فرمایا ہے کہ: ”تم اس وقت تک فوت نہیں ہو گے جب تک کہ تمہارا یہ حصہ (سر اور داڑھی کی جانب اشارہ) ضرب سے خون آلود نہ کر دیا جائے، اور تمہیں ان میں سے وہ شخص قتل کرے گا جو سب سے زیادہ بدبخت ہو گا، بالکل اسی طرح جیسے بنو فلاں کے سب سے شقی انسان نے اللہ تعالیٰ کی اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالی تھیں“، آپ ﷺ نے اس بدبخت کی نسبت قومِ ثمود کی بجائے اس کے قریب ترین ذیلی قبیلے کی طرف خاص کر کے بیان فرمائی۔
اسے امام احمد نے 'المسند' (730) اور امام حاکم نے 'المستدرک' (4673) میں روایت کیا ہے اور اس کی سند حسن ہے۔